پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر کا دہشت گردی اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر موقف
اسلام آباد(بولونیوز) میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد ہونا چاہیے اور پی ٹی آئی کا موقف اس حوالے سے پہلے دن سے واضح ہے۔ انہوں نے حکومت اور دیگر حلقوں سے کہا کہ پارٹی پر بلاجواز الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سردیوں میں عوام اپنے گھروں سے شوقاً نہیں نکلتے بلکہ یہ حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اور صوبائی حکومت کا موقف یہ کہ نقل مکانی کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں صورتحال کے حل کے لیے وفاقی حکومت نے پہل کی، معاملات متعلقہ فورمز پر اٹھائے جائیں، اور میڈیا بیانات سے گریز کیا جائے۔ دہشت گردی کو بیانیے کی جنگ کا حصہ نہ بنایا جائے اور اگر سیکیورٹی خدشات ہیں تو انہیں مؤثر طریقے سے حل کیا جائے۔ ضرورت نہ ہونے کی صورت میں متاثرین کو فوری طور پر اپنے گھروں کو واپس بھیجا جائے۔
پی ٹی آئی رہنما نے بانی پارٹی سے ملاقات کے معاملے پر بھی بات کی اور کہا کہ قیدی کے بنیادی حقوق کے مطابق ملاقاتیں عدالت کے احکامات کے تحت ہونی چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے بانی پی ٹی آئی نے 15ویں بار چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش کی مگر ملاقات نہیں ہو سکی، جس پر پیغام چھوڑا گیا کہ بانی اور بشریٰ بی بی کی درخواستیں مقرر کی جائیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج ایم این ایز کی جانب سے بانی سے ملاقات کے لیے درخواست جمع کرائی گئی ہے اور ایک خط چیف جسٹس کے پاس جمع کروایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات پر کسی بھی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے اور پارٹی کی صحت سے متعلق تشویش کو قانون کے مطابق فوری حل کیا جائے۔


