ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، 18 سال سے کم عمرنوجوانوں کی شادیاں کراؤں گا

اسلام آباد(بولونیوز)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادی سے متعلق قانون سازی کو وہ غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس قانون کی کھلی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس قانون کی خلاف ورزی کریں گے اور 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادیاں کرائیں گے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر اس قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنا شدید احتجاج ایوان میں ریکارڈ کرا رہا ہوں اور ایسے قوانین اس ملک میں نہیں چلنے دیں گے۔

خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمن نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے مخاطب ہو کر کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ آپ دباؤ میں ہیں، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے جواب دیا کہ یہ ایسی کرسی ہے جس سے نہ حکومت خوش ہوتی ہے اور نہ اپوزیشن۔

مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ میں اس مائنڈ سیٹ کے خلاف ہوں جس نے یہ قانون بنایا، یہ ڈنگ ٹپاؤ کی سیاست مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کے قانون کی خلاف ورزی کروں گا اور 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادیاں کراؤں گا۔

غزہ امن بورڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر پیس بورڈ کے نکات میں تبدیلیاں کی گئیں تو وہاں جانے کی کیا ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جارحانہ قوت کو تقویت دے رہا ہے اور حماس کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ امریکا نے افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کر دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے بعد تفتان کی سرحد پر کھڑا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن کے مطابق اسرائیل کے پہلے صدر نے کہا تھا کہ ہماری اساس ایک نوزائیدہ اسلامی ریاست کا خاتمہ ہوگا، اور آج بھی اسرائیلی عزائم واضح ہیں۔

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فورمز میں شرکت کی جا رہی ہے جہاں آغاز ہی دھمکیوں سے ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل جانے پر پابندی کیوں ہے، ہم امن چاہتے ہیں لیکن امن کے بھی اصول ہوتے ہیں۔

ملکی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دنیا میں ہر طرف معاشی ترقی ہو رہی ہے جبکہ صرف پاکستان ڈوب رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *