کورنگی میں پیپلز پارٹی: عوام کی محرومی یا قیادت کی اقتدار کی ہوس؟

کراچی(بولونیوز)کورنگی ڈسٹرکٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی شدید اندرونی کشمکش، گروپ بندی اور اقتدار کی رسہ کشی کا شکار ہے۔ پارٹی کے موجودہ ڈسٹرکٹ صدر جانی میمن کے ہوتے ہوئے چیئرمین کورنگی ٹاؤن نعیم شیخ کی غیر معمولی سیاسی سرگرمیاں نہ صرف پارٹی حلقوں میں تشویش پیدا کر رہی ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نعیم شیخ ڈسٹرکٹ کورنگی کی صدارت حاصل کرنے کی تیز رفتار مہم میں مصروف ہیں اور آئندہ انتخابات میں ایم پی اے بننے کے خواب بھی دیکھ رہے ہیں۔ تاہم نظریاتی کارکن، جنہوں نے پارٹی کے لیے قربانیاں دیں، آج نظر سے اوجھل ہیں، اور ان کی جگہ خوشامد، تحائف اور فوٹو سیشن کے ذریعے قیادت کے قریب آنے والے افراد آگے آ چکے ہیں۔ پارٹی کے اندر اس صورتحال کو “اصولی سیاست کا جنازہ” قرار دیا جا رہا ہے۔

کورنگی ٹاؤن میں نعیم شیخ کے دور اقتدار میں بنیادی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ سیوریج سسٹم ناکارہ، گلیاں اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، گندے پانی کے جوہڑ ہر یو سی میں موجود، اور گرین بیلٹس ویران ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق یونین کونسلز اور ٹاؤن آفسز عملی طور پر غیر فعال ہیں، افسران کم اور عوام کی شنوائی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ذرائع کے مطابق نعیم شیخ کے دو بڑے اہداف ہیں: آئندہ الیکشن میں ایم پی اے بننا اور ڈسٹرکٹ کورنگی کی صدارت حاصل کرنا۔ ان کے سیاسی منصوبے عوامی خدمت یا ترقیاتی کاموں سے الگ ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نعیم شیخ کی سیاست کا محور عوام نہیں بلکہ طاقت کے مراکز ہیں۔

اس کے علاوہ کورنگی ٹاؤن میں غیر ضروری بھرتیاں اور تنخواہوں پر بھاری اخراجات، جبکہ ترقیاتی کام تقریباً صفر ہیں، جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ٹاؤن کا بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نعیم شیخ اپنی کمائی ہوئی رقم پاکستان سے باہر سرمایہ کاری میں لگا رہے ہیں، جبکہ عمرہ اور دیگر سرگرمیاں محض دکھاوا ہیں۔

کورنگی کے عوام آج بدحالی، تعفن اور محرومی کے عالم میں ہیں، اور سوال کر رہے ہیں کہ آیا پیپلز پارٹی عوام کے لیے ہے یا صرف اقتدار کے لیے؟

آئندہ انتخابات میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ جانی میمن اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھتے ہیں یا نعیم شیخ اقتدار کی اگلی سیڑھی پر چڑھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ فی الحال کورنگی کی حقیقی تصویر بدحالی اور عوام کی محرومی کی ہے۔

یہ خبر محض الزام نہیں بلکہ سیاسی دستاویز ہے، اور وقت اور حالات سب کچھ بے نقاب کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *