ٹرمپ کا مجلسِ السلام منصوبہ، غزہ کے بعد امن یا عالمی سیاست کا نیا تجربہ؟
واشنگٹن(بولونیوز)ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی جنگ کے بعد امن، نگرانی اور بحالی کے لیے ایک نئے عالمی ادارے “مجلسِ السلام (Board of Peace)” کے قیام کا اعلان کیا۔ امریکی صدر نے اس ادارے کو ایک ایسے فورم کے طور پر پیش کیا جو غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی، عبوری نظمِ حکمرانی کے قیام اور مستقبل میں عالمی تنازعات کے حل میں کردار ادا کرے گا۔
ابتدائی مرحلے میں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، انڈونیشیا، مراکش، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، ارجنٹینا اور اسرائیل سمیت تقریباً 19 ممالک نے اس مجوزہ دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔ حکومتی بیانات کے مطابق مجلسِ السلام کا پہلا ہدف غزہ میں مستقل جنگ بندی کی نگرانی اور انتظامی ڈھانچے کی تشکیل ہے۔
تاہم اس منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی سیاسی حلقوں میں سنگین سوالات اور تحفظات جنم لے چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مجلسِ السلام کی سب سے بڑی کمزوری اس کی محدود اور منقسم شمولیت ہے، کیونکہ فرانس، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا سمیت کئی اہم مغربی ممالک اس کا حصہ نہیں بنے یا تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ ادارہ ایک ہمہ گیر عالمی فورم کے بجائے امریکہ کے زیرِ اثر محدود سیاسی اتحاد محسوس ہوتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مجلسِ السلام اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں، لیکن ان کے بیانات میں اقوامِ متحدہ کی ناکامیوں کا حوالہ دے کر ایک نئے نظام کی وکالت کی گئی، جس سے خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ یہ منصوبہ عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے۔
مزید برآں، مجلسِ السلام کے مسودے میں غزہ کو غیر مسلح کرنے اور عبوری نظمِ نسق قائم کرنے کی شقیں شامل ہیں، تاہم اسرائیلی فوجی انخلا یا اسلحہ محدود کرنے کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں۔ ناقدین کے مطابق ایک فریق کو غیر مسلح کر کے دوسرے کو مکمل عسکری طاقت کے ساتھ برقرار رکھنا پائیدار امن کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امن محض دستاویزوں اور دستخطوں سے ممکن نہیں، بلکہ زمینی حقائق، انسانی بحران، امداد کی بحالی اور حقیقی سیاسی نمائندگی جیسے بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر کوئی بھی منصوبہ عملی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
مالی حوالے سے بھی مجلسِ السلام پر سوال اٹھ رہے ہیں، کیونکہ ہر رکن ملک کے لیے ایک ارب ڈالر کی شراکت کی شرط کو غیر حقیقی اور اشرافی طاقتوں کے مفادات سے جوڑا جا رہا ہے۔
پاکستان سمیت مسلم ممالک کی شمولیت پر بھی عالمِ اسلام میں بحث جاری ہے۔ ناقدین کے مطابق ایک ایسے فورم میں شمولیت، جس پر مکمل اختیار امریکی صدر کو حاصل ہو، مسلم عوام کے لیے قابلِ قبول ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجلسِ السلام بلند دعوؤں کے باوجود فی الحال ایک غیر واضح، متنازع اور سوالات سے بھرپور منصوبہ ہے، جس کی کامیابی کا انحصار اس کی غیر جانبداری، شفافیت اور زمینی حقائق سے ہم آہنگی پر ہوگا۔ بصورتِ دیگر یہ منصوبہ امن کے بجائے عالمی سیاست کا ایک اور تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔


