خودکش بمبار فاطمہ بلوچ کی گرفتاری، خواتین کو استعمال کرنے والا خطرناک نیٹ ورک بے نقاب

حب چوکی(بولونیوز) حب کی اکرام کالونی سے ایک اور مبینہ خودکش بمبار فاطمہ بلوچ کی گرفتاری کے بعد سکیورٹی اداروں نے خواتین کو استعمال کرنے والے ایک خطرناک نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق فاطمہ بلوچ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے فدائی ونگ مجید بریگیڈ سے وابستہ تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی وائی سی کے پلیٹ فارم کے ذریعے خواتین کی منظم ذہن سازی کی جا رہی تھی، تاکہ انہیں خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ نوکنڈی میں زرینہ رفیق بلوچ کے خودکش حملے کے بعد خفیہ ادارے الرٹ ہوئے تھے، کیونکہ شاری بلوچ، ماہل بلوچ، ماہکان بلوچ اور سمیعہ قلندرانی کے بعد یہ پانچواں واقعہ سامنے آیا تھا۔

تحقیقات کے دوران فرید ولد اعجاز عرف زگرین کو بھی بے نقاب کیا گیا، جو ضلع کیچ کے علاقے تیجابان سے تعلق رکھتا تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ مقامی خواتین کی مدد سے لڑکیوں کو بی ایل اے کے کیمپس تک پہنچانے میں کردار ادا کرتا رہا۔

دورانِ تفتیش یہ بھی انکشاف ہوا کہ خیرالنساء نامی ایک اور خاتون کو کوئٹہ میں خودکش حملے کے لیے تیار کیا جا چکا تھا، تاہم بروقت کارروائی کے نتیجے میں خیرالنساء اور اس کی سہولتکار ہانی بلوچ کو گرفتار کر لیا گیا۔ مزید چھان بین کے دوران حب چوکی سے ہی ایک اور خودکش بمبار فاطمہ بلوچ کا سراغ ملا، جسے بعد ازاں حراست میں لے لیا گیا۔

تفتیشی حکام کے مطابق خواتین کی ذہن سازی کے لیے مبینہ طور پر ورکشاپس، بلیک میلنگ اور نازیبا ویڈیوز کا سہارا لیا جاتا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ “عزت” کو یرغمال بنا کر معصوم لڑکیوں کو خودکش حملوں پر مجبور کیا جاتا ہے، جیسا کہ زرینہ رفیق سمیت دیگر کیسز میں سامنے آیا۔

سکیورٹی ذرائع نے اس عمل کو بلوچ روایات، اسلامی اقدار اور قبائلی غیرت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم خواتین کو جھوٹے نعروں، جذباتی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے بارود بنانا شدید اخلاقی زوال اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *