انسانیت کو 13 ارب سال پرانے سپرنووا دھماکے کا پراسرار سگنل موصول
لندن(بولونیوز)سائنس دانوں نے زمین پر ایک دس سیکنڈ طویل پراسرار سگنل موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، جس نے انہیں حیرت و تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس سگنل کی نوعیت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی، جس کے باعث قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کیا یہ کسی خلائی مخلوق کا پیغام ہو سکتا ہے یا ایک طبیعیاتی واقعہ۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ سگنل خلا کی انتہائی گہرائیوں میں کسی نامعلوم مقام سے آیا، اور اس کا اصل ماخذ زمین سے تقریباً 13 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک عظیم سپرنووا دھماکہ ہے، جسے انہوں نے GRB 250314A کا نام دیا ہے۔ یہ دھماکہ کائنات کے ابتدائی دور یعنی صرف 730 ملین سال بعد پیدا ہونے والے ستارے کے پھٹنے کا نتیجہ تھا۔
یہ دھماکہ ایک طاقتور گاما رے شعاعوں کا سبب بنا، جو روشنی کی سب سے طاقتور اور نظر نہ آنے والی اقسام میں شامل ہیں۔ گاما رے شعاعیں اتنی توانائی رکھتی ہیں کہ انسانی جسم یا سیارے کے قریب پہنچیں تو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں، لیکن چونکہ یہ دھماکہ زمین سے اتنی دور تھا، لہٰذا کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا۔
سائنس دانوں کے مطابق اس دھماکے کا مشاہدہ ایک طرح کی ٹائم مشین کے مترادف ہے، کیونکہ ہم اربوں سال پہلے ہونے والے واقعات کو موجودہ وقت میں دیکھ رہے ہیں۔ نیدرلینڈز کی ریڈباوڈ یونیورسٹی کے محقق اینڈریو لیون کا کہنا ہے کہ گزشتہ 50 برسوں میں صرف چند گاما رے دھماکے ایسے ریکارڈ ہوئے ہیں جو کائنات کے ابتدائی ایک ارب سال سے تعلق رکھتے ہوں۔
یہ سگنل 14 مارچ 2025 کو خلائی سیٹلائٹ نے ریکارڈ کیا تھا، جس نے گہرے خلا میں متغیر اجسام کی رصد کے دوران روشنی کی اچانک چمک کو کیپچر کیا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ دھماکہ تقریباً 10 سیکنڈ تک جاری رہا اور زمین تک پہنچنے والی شعاعیں انسانوں کے لیے بالکل محفوظ تھیں۔
اس پراسرار سگنل نے سائنس دانوں میں نہ صرف حیرت پیدا کی ہے بلکہ کائنات کے ابتدائی دور، سپرنووا دھماکوں اور دور دراز فلکیاتی مظاہر کے مطالعے کے لیے نئی راہیں بھی کھول دی ہیں۔


