بھتہ خوری اور فائرنگ کی درجنوں وارداتوں میں ملوث خطرناک ملزم ہلاک
کراچی(بولونیوز)ڈسٹرکٹ سٹی میں رات گئےپولیس اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان ہونے والے مقابلے میں بھتہ خوری اور فائرنگ کی درجنوں وارداتوں میں ملوث خطرناک ملزم ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق مقابلہ کھارادر تھانے کی حدود میں دورانِ پیٹرولنگ پیش آیا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے لیاری گینگ وار سے تعلق رکھنے والے جمیل چھانگا گروپ کے کارندوں کو روکنے کی کوشش کی تو ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کر دی، جس پر پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک ملزم ہلاک جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
ہلاک ملزم کی شناخت شاہزیب کے نام سے ہوئی ہے، جو جمیل چھانگا گروپ کے بھتہ خور نیٹ ورک کا سرگرم رکن تھا۔ پولیس نے ہلاک ملزم کے قبضے سے ایک پستول بمعہ راؤنڈز، ایک موبائل فون اور بھتہ کی پرچی برآمد کی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق سات روز قبل جیلانی سینٹر کے ایک تاجر کو بھتہ کا پیغام موصول ہوا تھا اور ملزم بھتہ کی پرچی دینے کے لیے ہی علاقے میں آیا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ملزم نے دو ماہ قبل کھارادر میں زیرِ تعمیر عمارت کے بلڈر کو بھتہ کی پرچی دی تھی اور شدید فائرنگ کر کے مزدوروں کو زخمی کیا تھا، جس کے بعد وہ فرار ہو گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چند ماہ قبل کھارادر کے علاقے میں وال چاکنگ اور فائرنگ کی وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے۔
ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کے مطابق ہلاک ملزم کا طویل مجرمانہ ریکارڈ سامنے آیا ہے، جس میں بھتہ خوری، ڈکیتی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت متعدد مقدمات شامل ہیں، جو کھارادر، گلبہار، فرئیر، بریگیڈ اور لیاقت آباد تھانوں میں درج تھے۔
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کامیاب کارروائی پر ایس ایس پی سٹی اور ان کی جری و بہادر ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم کے خلاف پولیس کی کارکردگی عوام کے اعتماد کو مزید تقویت دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کی اس امن پسند دھرتی پر بھتہ خوروں، ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ گروہوں کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ نے جرائم پیشہ گروہوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ایسے عناصر کے خاتمے تک ان کا تعاقب جاری رکھے گی، جبکہ کریک ڈاؤن، چھاپوں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق فرار ہونے والے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔


