ایران میں انٹیلی جنس محاذ پر غیر معمولی کشیدگی، خطے کے لیے سنگین خدشات

تہران(بولونیوز)ایران میں اس وقت انٹیلی جنس محاذ پر غیر معمولی کشیدگی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جہاں مبینہ طور پر مختلف عالمی انٹیلی جنس نیٹ ورکس آمنے سامنے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کشیدہ ماحول میں ایک طرف سی آئی اے اور موساد سرگرم دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب آئی ایس آئی، ترک، روسی اور چینی انٹیلی جنس نیٹ ورکس کی موجودگی کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں عدم استحکام یا کسی بڑی سیاسی تبدیلی نے جنم لیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کا کمزور ہونا یا سقوط پورے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے لیے ایک بڑا المیہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ طاقت کے توازن میں بگاڑ نئے بحرانوں اور محاذ آرائی کو جنم دے گا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق سعودی عرب اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے کہ ایران کے بعد خطے میں طاقت کا خلا پیدا ہوا تو عدم استحکام کہاں تک پھیل سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے مخالفین ممکنہ طور پر وقتی طور پر جشن منائیں، تاہم یہ خوشی زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہو گی، کیونکہ طاقت کا خلا ہمیشہ نئی کشیدگی اور نئے تنازعات کو جنم دیتا ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ایران میں حالات بگڑتے ہیں تو دباؤ کا رخ براہِ راست پاکستان کی جانب بھی مڑ سکتا ہے، جبکہ اسرائیل مزید بے باک ہو کر خطے میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اسی طرح افغانستان کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر کسی مہم جوئی کے لیے موقع تلاش کر سکتا ہے۔

پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تاریخ اور روایات اس بات کی گواہ ہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتا۔ ان کے بقول اگر خدانخواستہ خطے میں کوئی بڑی تبدیلی یا حکومتی الٹ پھیر ہوتی ہے تو اس کے اثرات کا ادراک سب کو کرنا ہوگا، کیونکہ ایسی صورتِ حال میں علاقائی اور عالمی سطح پر نئے پیغامات اور نئے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔

ماہرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے دانشمندانہ سفارت کاری اور ذمہ دارانہ رویہ ناگزیر ہے، کیونکہ کسی ایک ملک میں بحران پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *