جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا سلطان بم دھماکے میں جاں بحق، ملک بھر میں دکھ کی لہر
وانا(بولونیوز)جنوبی وزیرستان (لوئر) کے علاقے وانا میں ایک زوردار بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مخلص رہنما اور وفاق المدارس العربیہ کے مسئول مولانا سلطان محمد شدید زخمی ہو گئے۔ مولانا سلطان کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور جاں بحق ہو گئے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شہید رہنما کے انتقال پر گہرا رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ اعتدال پسند، پرامن اور جمہوری فکر پر حملہ ہے جس کی علمبردار جماعت ایک صدی سے جدوجہد کر رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ باجوڑ اور جنوبی وزیرستان جیسے مذہبی اور پرامن خطوں میں حریت پسند اور امن کے داعی علماء کو مسلسل نشانہ بنایا جانا تشویشناک سلسلہ ہے۔ چھ ماہ قبل اسی علاقے میں جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر مولانا عبداللہ ندیم بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے اور تاحال ملتان کے نشتر ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اس سے قبل سابق ضلعی امیر مولانا مرزا جان بھی اسی شہر میں دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام نے اس واقعے کو نہ صرف افسوسناک بلکہ لمحہ فکریہ قرار دیا اور ملک کے سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ علماء کرام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور حملے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
جماعت نے کہا کہ ان کے علماء کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ بندوق کے بجائے دلیل، نفرت کے بجائے محبت اور انتشار کے بجائے امن کے داعی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی، جمہوری اقدار اور آئینی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھے گی، چاہے اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔


