فش ہاربر پر پاکستان میں نایاب غیر ملکی مچھلی کی آمد، ڈبلیو ڈبلیو ایف کا انتباہ
کراچی(بولونیوز)وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ 4 جنوری کو کراچی فش ہاربر پر سکھر سے ایک ایسی عجیب و غریب مچھلی لائی گئی جو پاکستان کے آبی نظام میں پائی ہی نہیں جاتی۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق ماہرین نے مذکورہ مچھلی کی شناخت ایمازون سیل فِن کیٹ فِش کے طور پر کی ہے، جو لاطینی امریکا کے دریاؤں میں پائی جاتی ہے اور ایک شکاری مچھلی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ اور زیریں پنجاب کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں غیر ملکی مچھلیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو مقامی آبی حیات کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ غیر ملکی مچھلیاں نہ صرف مقامی مچھلیوں کو خوراک بنا لیتی ہیں بلکہ نئی بیماریاں بھی پھیلاتی ہیں، جس سے مقامی ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی مچھلیوں کی درآمد اور ان کی آبی ذخائر میں منتقلی کو فوری طور پر روکا جائے تاکہ مقامی مچھلیوں اور آبی حیات کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔


