صدر ٹرمپ کا گرین لینڈ سے متعلق اہم بیان، امریکہ کو ’’سخت ضرورت‘‘ قرار دے دیا
واشنگٹن(بولونیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب امریکہ کو گرین لینڈ کی سخت ضرورت ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر گرین لینڈ کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو وہاں روسی اور چینی بحری جہازوں کی موجودگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ گرین لینڈ پر توجہ دے، کیونکہ یہ امریکی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ محض برف سے ڈھکا ہوا جزیرہ نہیں بلکہ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جو جغرافیائی اور دفاعی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گرین لینڈ آرکٹک خطے کا دروازہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے روس اور چین کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گرین لینڈ میں معدنیات، تیل، گیس اور خاص طور پر نایاب دھاتوں (Rare Earth Metals) کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی، اسمارٹ فونز، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ہتھیاروں کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ ان دھاتوں کے لیے چین پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے، جس کی وجہ سے گرین لینڈ اس کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
دوسری جانب برف پگھلنے کے باعث نئے سمندری تجارتی راستے کھلنے کا امکان بھی بڑھ رہا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے کم فاصلے اور کم لاگت کے راستے فراہم کر سکتے ہیں۔
تاہم اس معاملے پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں کا مؤقف دو ٹوک ہے۔ ڈنمارک کی حکومت ایک بار پھر واضح کر چکی ہے کہ ’’گرین لینڈ برائے فروخت نہیں‘‘۔ ڈنمارک کی وزیرِ اعظم ماضی میں صدر ٹرمپ کے اس خیال کو مضحکہ خیز قرار دے چکی ہیں اور کہہ چکی ہیں کہ گرین لینڈ کوئی ایسی چیز نہیں جسے خریدا یا بیچا جا سکے۔
گرین لینڈ کی مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ سمیت تمام ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے تو تیار ہے، لیکن اپنی آزادی اور زمین پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیانات کا مقصد ڈنمارک پر دباؤ بڑھانا، چین کی سرمایہ کاری کو محدود کرنا، تھول ایئر بیس جیسے امریکی فوجی اڈوں کا دائرہ کار بڑھانا اور نایاب معدنیات تک رسائی حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس تازہ بیان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان وسائل، سلامتی اور اثر و رسوخ کی جنگ میں گرین لینڈ ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ بن چکا ہے۔


