پولٹری انڈسٹری بحران کا شکار، مرغی کے گوشت کی قلت اورقیمتوں میں اضافہ

اسلام آباد/لاہور(بولونیوز)پاکستان میں پولٹری انڈسٹری شدید بحران سے دوچار ہو گئی ہے، جہاں مرغی اور اس کے گوشت پر مجموعی طور پر 65 فیصد تک بھاری ٹیکسز کے باعث چکن کی قلت اور قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

برائلر فارمرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ ٹیکس پالیسی برقرار رہی تو آئندہ دو ماہ کے اندر مرغی کا گوشت مارکیٹ میں تقریباً نایاب ہو جائے گا۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری آصف گوندل کے مطابق چوزے کی اصل قیمت 20 روپے سے بھی کم ہے، تاہم اس پر 10 روپے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ اضافی ٹیکسز اور مبینہ جعلی ریٹ لسٹوں نے فارمرز کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔

آصف گوندل کا کہنا ہے کہ متعدد پولٹری فارمرز کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں سپلائی چین بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں خوراک اور پروٹین کے شعبے کو سبسڈی دی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں سستے ترین پروٹین کے ذریعے پر دوہرا ٹیکس لگا کر غریب عوام اور بچوں سے بنیادی غذا چھینی جا رہی ہے۔

برائلر فارمرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو مذاکرات اور ٹیکسز کے خاتمے کے لیے الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر احتجاج اور پولٹری فارمز کی مکمل بندش کی طرف جایا جائے گا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ایسی صورتحال میں ملک کو غذائی تحفظ کے ایک نئے اور سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فارمرز اور ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ٹیکس پالیسی پر نظرثانی کی جائے تاکہ نہ صرف پولٹری انڈسٹری کو بچایا جا سکے بلکہ عوام کو بھی سستی اور معیاری غذائی سہولت کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *