غلط لیبارٹری رپورٹ پر آغا خان ہسپتال کو 16 لاکھ 80 ہزار روپے ہرجانہ
کراچی(بولونیوز)کنزیومر پروٹیکشن کورٹ کراچی (ساؤتھ) نے یکم جنوری 2026ء کو کیس نمبر 25/2021 میں ایک اہم فیصلے میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (کلفٹن میڈیکل سروسز) کو طبی غفلت اور ناقص سروس کا مرتکب قرار دیتے ہوئے متاثرہ صارف کو 16 لاکھ 80 ہزار روپے (Rs. 1,680,000) ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ مقدمہ 23 دسمبر 2025ء کو فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد یکم جنوری 2026ء کو سنایا گیا۔
درخواست گزار سیف الرحمٰن کی جانب سے بیرسٹر ارسلان راجہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مارچ 2021ء میں ان کے موکل نے آغا خان ہسپتال سے مکمل ادائیگی کے عوض لیبارٹری تشخیصی سہولیات حاصل کیں۔ تاہم، 25 مارچ 2021ء کو ہسپتال کی جانب سے جاری کی گئی لیبارٹری رپورٹ میں خون کے مختلف ٹیسٹس میں سنگین خرابیوں کے ساتھ ہیپاٹائٹس سی (HCV) کو ری ایکٹو ظاہر کیا گیا، جس کے باعث درخواست گزار شدید ذہنی دباؤ، خوف، اضطراب اور سماجی بدنامی کا شکار ہوا۔
وکیل نے بتایا کہ طبی مشورے پر درخواست گزار نے 29 مارچ 2021ء کو دوبارہ آغا خان ہسپتال اور 30 مارچ 2021ء کو ڈاؤ ڈائیگناسٹک لیبارٹری سے وہی ٹیسٹس کروائے، جن کی رپورٹس مکمل طور پر نارمل تھیں اور ان میں ہیپاٹائٹس سی نان ری ایکٹو ظاہر ہوا، جو پہلی رپورٹ سے یکسر متضاد تھیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی واضح ہوا کہ طبی ماہرین کے مطابق چار سے پانچ دن میں ہیموگلوبن کی مقدار 10.9 g/dl سے بڑھ کر 15 g/dl سے زائد ہونا سائنسی طور پر ناممکن ہے، اسی طرح بغیر علاج کے ہیپاٹائٹس سی کا نتیجہ ری ایکٹو سے نارمل ہونا ممکن نہیں، جو سنگین لیبارٹری غلطی کا واضح ثبوت ہے۔
عدالت نے ہسپتال سے وابستہ کنسلٹنٹ ڈاکٹر یوسف کمال مرزا کی اندرونی خط و کتابت کا بھی نوٹس لیا، جس میں نمونوں کے تبادلے (Sample Mix-up) کا اعتراف کیا گیا اور امکان ظاہر کیا گیا کہ درخواست گزار کو کسی اور مریض کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔
یہ معاملہ عدالت کی ہدایت پر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (SHCC) کو بھیجا گیا، جہاں چھ رکنی ماہر کمیٹی نے تحقیقات کے بعد قرار دیا کہ ہسپتال نے لیبارٹری کے معیاری اصولوں کی خلاف ورزی کی اور غلطی نمونوں کی شناخت اور تصدیق کے ناقص نظام کے باعث ہوئی۔ کمیشن نے ہسپتال پر جرمانہ بھی عائد کیا، جسے ہسپتال نے چیلنج نہیں کیا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ہسپتال کسی مستند لیبارٹری ٹیکنالوجسٹ، پیتھالوجسٹ یا کوالٹی کنٹرول افسر کو بطور گواہ پیش کرنے میں ناکام رہا اور صرف ایک انتظامی نمائندہ پیش کیا گیا، جس نے متعدد سوالات کے جواب میں لاعلمی کا اظہار کیا۔
اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ غلط اور خوفناک طبی رپورٹ کا اجرا سنگین طبی غفلت کے زمرے میں آتا ہے، جس سے درخواست گزار کی ذہنی صحت اور پیشہ ورانہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہسپتال نے سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2014ء کے تحت درکار پیشہ ورانہ احتیاط اور مہارت کا مظاہرہ نہیں کیا۔
عدالت نے ان حقائق کی بنیاد پر درخواست گزار کو 16 لاکھ 80 ہزار روپے (Rs. 1,680,000) بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
بیرسٹر ارسلان راجہ نے دلائل میں کہا کہ ہسپتال کی جانب سے تسلیم شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزیاں اور نمونوں کے تبادلے کا اعتراف یہ واضح کرتا ہے کہ طبی تشخیصی اداروں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔
یہ فیصلہ صحت کے شعبے میں صارفین کے حقوق کے تحفظ اور طبی اداروں پر معیار اور احتیاط کی پابندی کو یقینی بنانے کے حوالے سے ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے


