40 ایکڑ اراضی کا تنازع، محکمے کی مسترد شدہ رائے کے باوجود منظوری

کراچی(بولونیوز) میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) میں 40 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی ایک نجی بائیو گیس پروجیکٹ کو دینے کے فیصلے نے شفافیت، اختیارات کے استعمال اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ میونسپل کمشنر سید افضل زیدی کی جانب سے اس وقت منظور کیا گیا جب متعلقہ محکمے نے تحریری طور پر منصوبے کی مخالفت کی تھی۔

ذرائع کے مطابق سٹی ابٹیور (Slaughter House) کی یہ 40 ایکڑ اراضی محکمہ ویٹرنری سروسز کے انتظامی دائرہ اختیار میں آتی ہے، اور کسی بھی نجی یا کمرشل منصوبے کے لیے محکمے کی تکنیکی منظوری لازمی تھی۔
تاہم محکمہ ویٹرنری سروسز نے:

اس اراضی کے انتخاب کو مکمل طور پر ناموزوں قرار دیا

واضح کیا کہ یہ زمین ابٹیور کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کے لیے ضروری ہے

بائیو گیس پروجیکٹ سے صحت، ماحولیات اور آپریشنل امور کے متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا

زور دیا کہ نجی منصوبے کے لیے متبادل اراضی تلاش کی جائے

محکمانہ اعتراضات اور تحریری انکار کے باوجود فائل کو غیر معمولی تیزی سے آگے بڑھایا گیا، جس کے بعد 40 ایکڑ اراضی دینے کی منظوری دی گئی۔

منظوری کس بنیاد پر دی گئی؟ داخلی حلقوں میں بے چینی بڑھ گئی

ذرائع کا کہنا ہے کہ:

محکمانہ اعتراضات کو فائل میں تو شامل کیا گیا مگر نظرانداز کردیا گیا

تکنیکی کمزوریاں اور قانونی نکات موجود ہونے کے باوجود فیصلہ آگے بڑھایا گیا

معاملہ ’’خصوصی دلچسپی‘‘ کے تحت میونسپل کمشنر کی سطح پر آگے بڑھایا گیا

کے ایم سی کے اندرونی حلقوں میں سب سے زیادہ تشویش مفادات کے ٹکراؤ کے ممکنہ خدشے پر ہے۔
یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ سید افضل زیدی کا اس بائیو گیس پروجیکٹ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ہو سکتا ہے، تاہم یہ الزام کسی عدالتی فورم پر ثابت نہیں ہوا۔

شہری مفاد سے متعلق اہم سوالات تاحال جواب طلب

متعدد اہم سوالات بدستور حل طلب ہیں:

کیا بائیو گیس پلانٹ کے لیے ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ (EIA) تیار کی گئی؟

کیا کے ایم سی کونسل، پلاننگ بورڈ یا دیگر متعلقہ فورمز سے باقاعدہ منظوری لی گئی؟

منصوبے کی شرائط، منافع اور کے ایم سی کے مفاد کے نکات کیا ہیں؟

40 ایکڑ قیمتی شہر ی اراضی نجی کمپنی کو دینے کی جوازیت کیا تھی؟

ان سوالات کے باضابطہ جوابات ابھی تک سامنے نہیں آئے۔

میونسپل کمشنر کا مؤقف ضروری ہے

صحافتی اصولوں کے مطابق، اس خبر میں شامل تمام نکات پر میونسپل کمشنر کے ایم سی سید افضل زیدی کا مؤقف شامل کرنا نہایت ضروری ہے۔
اگر وہ چاہیں تو ان کا مؤقف من و عن اسی خبر میں شامل کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *