پاکستان کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کا افتتاح، نکاح سے قبل ٹیسٹ لازمی قرار

کراچی(بولونیوز)ملک کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے بڑھتے ہوئے کیسز تشویشناک ہیں، اور اس کی بنیادی وجہ عوام اور حکومت دونوں کی غفلت ہے۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ تھیلیسیمیا سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ بروقت اسکریننگ ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ نکاح سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ، کم از کم لڑکے کے لیے لازمی قرار دیا جائے، کیونکہ دو مائنر والدین کی شادی سے تھیلیسیمیا میجر بچے کی پیدائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “یہ سب جانتے ہیں لیکن ٹیسٹ کروانے کوئی نہیں جاتا”۔

مصطفیٰ کمال نے مزید بتایا کہ انہیں چند روز قبل علم ہوا کہ پاکستان میں اعضا کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کے لیے ایک الگ ادارہ موجود ہے، جس میں اب بون میرو ٹرانسپلانٹ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تھیلیسیمیا کے علاج میں خون کی منتقلی کے ساتھ ساتھ بون میرو ٹرانسپلانٹ بھی شامل ہے، تاہم 50 ہزار میں سے ایک شخص ہی مریض کے لیے موزوں میچ ثابت ہوتا ہے۔

وزیر صحت نے بتایا کہ حکومت نے بون میرو ٹرانسپلانٹ سے قبل درکار اضافی منظوری کا مرحلہ ختم کر دیا ہے تاکہ مریضوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے نکاح سے قبل لازمی ٹیسٹنگ ناگزیر ہو چکی ہے اور اس سلسلے میں قانونی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *