کورنگی کی معصوم بچی اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار ہوگئی

کراچی(بولونیوز)کورنگی پریس کلب میں اجتماعی جنسی زیادتی کاشکار ہونے والی معصوم بچی علیزہ اور ان کہ والدین محمد طاہر اور آمنہ نےکورنگی پریس کلب میں روتےہوئےبتایا کہ ہم کورنگی کہ علاقےالطاف ٹاٶن کراسنگ کہ رہاشی ہیں ہماری معصوم بچی جوکہ محض بارہ سال کی ہے اُس کو بھٹائی کالونی میں قائم الفرقان اسکول سے واپسی کہ بعد حسیب،عبدالرحمٰن فرزند عمران چیمہ و دیگر نامعلوم بندوں نے یرغمال بناکہ اغوا کرلیا آمنہ نے مزید بتایا کہ میرا بندرہ سالہ بیٹا علی رضا روزانہ اپنی بہن کو اسکول چھوڑ کر بھی آتا تھا اور لیکر بھی آتا تھا مگر 19 دسمبر کہ روز جب وہ اپنی بہن کو واپس اسکول کی چھٹی کہ بعد گھر لارہا تھا تو حسیب عبدالرحمٰن اور دیگر نامعلوم بندے میرے بچے علی رضا کو تشدد کرکہ میری معصوم بچی علیزہ کو اغوا کرکہ لے گئے جب ہمارا بچہ گھر پر آیا تو اُس نے وہ واقعہ بتایا آمنہ نے انکشاف کرتے ہوئے مزید کہا کہ جو لوگ میری بچی کو اغوا کرکہ لے گئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہمارا پُرانہ پڑوس کہ حوالے سے تعلق تھا جن میں عمران چیمہ فوزیہ اور ان کہ بیٹے حسیب اور عبدالرحمٰن ہیں ہماری اُن سے کوئی دشمنی نہیں پھر بھی وہ لوگ میری بچی کو اغوا کرکہ لے گئے ہیں آمنہ نے روتے ہوئے بتایا کہ حسیب عبدالرحمٰن نے ہم سے متعدد بار دھمکیوں پر پیسے بھی لئے کبھی ایک لاکھ تو کبھی دو لاکھ تو کبی پانچ لاکھ مانگے اور ہمنے اپنی بچی کی وجہ سے ان کو وہ پیسے بھی دیئے آمنہ نے بتایا کہ جب میرے بیٹے نے مجھے بتایا کہ فلاح بندے اُس کو لیکر گئے ہیں تو ہمنے تھانہ زمان ٹاٶن میں ایف آئی آر درج کروائی اور پھر پولیس نے عمران چیمہ کو گرفتار کیا جو حسیب اور عبدلرحمٰن کا باپ ہے جب پولیس نے عمران چیمہ کو گرفتار کیا تو عمران چیمہ نے اعتراف کیا کہ ہاں میرے دونوں بیٹے حسیب اور عبدالرحمٰن نے علیزہ ولد محمد طاہر کو اغوا کرکہ لے گئے ہیں تھانہ زمان ٹاٶن نے کاروائی کرتے ہوئے حسیب ولد عمران کو بھی گرفتار کرلیا مگر تھانہ زمان ٹاٶن ابھی تک عبدالرحمٰن کو گرفتار کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ ہمنے ان سب کہ خلاف ایف آر بھی درج کروائی ہے کورنگی پریس کلب میں معصوم بچی علیزہ نے بتایہ کہ جب وہ مجھے اسکول سے جاتے ہوئے لے گئے تو مجھے بہت تشدد کا نشانہ بنایا جس کہ باعث مجھے میں بےہوش بھی نہ رہا بچی نے مزید بتایہ کہ جب میں بیدار ہوہی تو اس گاڑی میں موجود لوگ آپس میں بات چیت کررہے تھے اور کہہ رہے تھے ہم لاہور پہنچ گئے ہیں بچی نے بتایا کہ انھونے مجھے تین سے چار دن لاہور میں رکھا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جب میں بےہوش ہکہ بود اوٹھتی تو بستر پر میرے بگل میں کبھی حسیب تو کبھی عبدالرحمٰن بندے لیٹے پڑے رھتے بچی کہ والد محمد طاہر اور ان کی بیوی آمنہ نے نجی ہسپتال سے پوسٹ مارٹم کروایا جس کہ بعد معلوم ہوا کہ بچی کہ ساتھ کئی بار جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا ہے علیزہ کہ والدین محمد طاہر اور آمنہ نے اعلیٰ حکام حکومت سندھ آء جی سندھ ایس ایس پی کورنگی سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ہماری معصوم بچی کی زندگی خراب کردی گئی ہے ان ظالموں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے اور ہماری مدد کی جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *