لانڈھی سلاٹر ہاؤس کی 101 ایکڑ زمین کرپشن اور غیر قانونی ٹھکانے لگانے کے الزامات کی زد میں
کراچی(بولونیوز)بلدیہ کراچی کی زمینوں کےغیر قانونی استعمال اور کرپشن کے حوالے سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لانڈھی مزبح خانے کی 101 ایکڑ زمین اور 31 ایکڑ بائیو گیس پلانٹ کی زمین کو غیر قانونی طور پر نجی مقاصد کے لیے ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سلاٹر ہاؤس کی یہ زمین، جس پر مکینیکل سلاٹر ہاؤس، کولڈ اسٹوریج اور مارکیٹ کے تمام لوازمات موجود ہیں، پہلے مصطفی کمال نے 20 کروڑ روپے کی لاگت سے رینوویٹ کروائی تھی اور اس کا افتتاح سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا۔
تاہم اب مبینہ طور پر محکمہ کی جانب سے زمین کو بائیو گیس پلانٹ کے نام پر نمٹا دیا گیا، جبکہ میونسپل کمشنر افضل زیدی اور سینئر ڈائریکٹر افتخار احمد پر اربوں روپے کی مشینری بیچ کر زمین کی اصل حیثیت ختم کرنے اور نجی پارٹیوں کو منتقل کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ زمین پر قبضہ کرنے کے بعد غیر قانونی سلاٹرنگ شروع ہو گئی ہے اور شہریوں کو مضر صحت گوشت فراہم کیا جا رہا ہے، جس میں مبینہ طور پر رشوت ستانی بھی شامل ہے۔ اس دوران زمین پر لگائی گئی چار دیواری اور پرائیوٹ گارڈ بھی زیر سوال ہیں۔
لانڈھی سلاٹر ہاؤس کیس میں پہلے بھی متعدد افسران نیب کی کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں وسیم شیخ، روشن شیخ، سابق سیکریٹریز، فضل الرحمان لالا اور دیگر شامل ہیں، جبکہ طاہر جمیل درانی سات سال کی سزا کاٹ چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کو میگا کرپشن اور چائنا کٹنگ کے ذریعے نجی مقاصد کے لیے استعمال کرنا سپریم کورٹ کے ماسٹر پلان اور قوانین کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ زمین بلدیہ کراچی کی ملکیت ہے اور کسی نجی مقصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔
اس کیس میں مزید تحقیقات اور دستاویزات منظر عام پر لائی گئی ہیں، جبکہ بھینس کالونی کی ایکڑوں زمین پر بھی غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاعات ہیں۔


