ادارے علماء کو تقسیم کرنے کی سازشوں سے باز آجائیں، مولانا عبدالغفور حیدری
لاہور(بولونیوز) طاقت سے مسائل حل نہیں ہوتے اگر طاقت حل ہوتا تو بلوچستان کے مسائل اب تک ختم ہوچکے ہوتے جبکہ پچھتر سال گزرنےکےبعد بھی بلوچستان کےمسائل میں اضافہ ہی ہوا ہے کمی نہیں ہوئی اس لئے مقتدر طبقوں کو عقل سے کام لینا چاہئے اور تمام سٹیک ہولڈرزکواعتماد میں لےکرپالیسی بنانی چاہئے،ان خیالات کا اظہارجمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ورکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری، صوبائی ترجمان حافظ غضنفر عزیز، میاں جلیل احمد شرقپوری، ضلعی امیر شیخوپورہ مفتی محمد اسماعیل، مولانا عمران شیخوپوری، مولانا محمد عرفان حیدری، مولانا یحییٰ خورشید، مولانا زاہد اسحاق، حاجی نصیب الہی گجر، مولانا اسامہ زبیر ودیگر نے جمعیۃ علماء اسلام تحصیل شرقپور کے زیر اہتمام مدرسہ سید علی المرتضیٰ منڈی فیص آباد میں تحفظ مدارس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مولانا عبدالغفور حیدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئین بالادست ہے اور ہر طبقے کو آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا چاہئے یہ ملک چھبیس سال آئین کے بغیر رہا اور اسے سرزمین بے آئین کہا گیا آج اس ملک میں خرابی کی جڑ آئینی حدود سے تجاوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں ان کی بقاء سے دین و اخلاق کی بقاء وابستہ ہے جبکہ مقتدر طبقات مدارس کا خاتمہ چاہتے ہیں یہ ان کی خام خیالی ہے وہ اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے جمعیۃ علماء اسلام مدارس کا ہر قیمت پر تحفظ و دفاع کرے گی، دینی سیاست ہی اس ملک کی محافظ ہے جو کرپشن اور خیانت سے پاک ہے روایتی سیاسی جماعتوں نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ علامت کرام حق گوئی کا فریضہ ادا کرتے رہے ہیں مقتدر طبقات علماء کرام کو تقسیم کرنے کی سازش کررہے ہیں جس میں وہ پہلے بھی کامیاب نہیں ہوئے آئندہ بھی نہیں ہوں گے ادارے اپنی حدود میں رہیں سازشوں سے باز آجائیں۔


