میزائل پروگرام دفاعی مقصد کے لیے، مذاکرات کا کوئی معاملہ نہیں
تہران(بولونیوز)ایران کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ملک کا میزائل پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس پر کسی قسم کے مذاکرات کا معاملہ نہیں ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں دشمن کو حملے کے خیال سے روکنے کے لیے ہیں، اور یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جس پر بات چیت کی جا سکے۔
بقائی نے مزید کہا کہ ایک طرف اسرائیل کو بلا روک ٹوک اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ ایران کے میزائل پروگرام کو خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار میں اضافے پر تشویش رکھتا ہے اور ممکنہ حملے کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ اسرائیل ایران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات کی بحالی پر بھی توجہ دے رہا ہے، جو سابقہ امریکی حملوں کا نشانہ بنی تھیں۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ماسکو کے دورے کے دوران کہا کہ تہران کسی بھی ممکنہ حملے کے لیے مکمل تیار ہے اور جنگ کو روکنے کا بہترین طریقہ خود کو تیار رکھنا ہے، اگرچہ ایران جنگ کو خوش آمدید نہیں کہتا۔


