وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ترقیاتی حکمتِ عملی اور سرمایہ کاری منصوبوں پر اعلیٰ سطحی اجلاس

کراچی(بولونیوز) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کی ترقیاتی حکمتِ عملی اور سرمایہ کاری منصوبوں پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری ورکس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں سندھ کے لیے 1018 ارب روپے کی جامع ترقیاتی حکمتِ عملی کی منظوری دی گئی، جس میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ انفراسٹرکچر اور ڈیزاسٹر رسک کو شامل کرنے پر زور دیا گیا۔

صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے تحت 520 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ سڑکوں کے انفراسٹرکچر کے لیے 582 ارب روپے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ کراچی کے سڑک منصوبوں کے لیے 194 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں شاہراہِ بھٹو، ملیر ندی پل اور انڈر پاسز کے منصوبے شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کراچی کے منصوبوں پر کام تیز اور معیار یقینی بنایا جائے۔ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی بھی ترقیاتی حکمتِ عملی میں شامل ہے۔

تعلیم کے شعبے کے لیے 340 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جس میں سیلاب سے متاثرہ 1600 اسکولوں کی تعمیرِ نو اور سکھر میں خواتین یونیورسٹی اور 9 نئے کیڈٹ کالجز کی قیام شامل ہیں۔ صحت کے شعبے کے لیے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں 9 ڈی ایچ کیو اسپتالوں کی توسیع اور ایس آئی یو ٹی، این آئی سی وی ڈی اور انڈس اسپتال کو گرانٹس کے ذریعے مفت علاج کی فراہمی شامل ہے۔

واٹر، سینیٹیشن اور حفظانِ صحت کے منصوبوں کے لیے 930 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی، جبکہ کے فور واٹر سپلائی اور حب کینال منصوبوں کی کڑی نگرانی کی ہدایت کی گئی۔ توانائی کے شعبے کے لیے 67.97 ارب روپے کا پیکیج شامل ہے۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ریڈ، ییلو اور اورنج لائن بی آر ٹی منصوبوں کے لیے 155 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سندھ سولر انرجی منصوبے کے تحت سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن تیز کرنے کی ہدایت دی گئی۔

سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز منصوبہ صوبائی ایجنڈے کا اہم ستون ہے، جس کے تحت سیلاب متاثرین کے لیے 21 لاکھ گھروں کی بحالی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سندھ ہاؤسنگ منصوبے کے تحت اب تک 14 لاکھ ادائیگیاں مکمل ہو چکی ہیں اور تقریباً تین لاکھ خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق فراہم کیے جا چکے ہیں۔

ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبے سے سالانہ 15 سے 20 ملین ڈالر آمدنی متوقع ہے۔ فارن پروجیکٹ اسسٹنس کے تحت 1557 ارب روپے سے زائد کی معاونت حاصل کی جا چکی ہے، جبکہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سندھ کے بڑے ترقیاتی شراکت دار ہیں۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے کے ذریعے ترقیاتی حکمتِ عملی پر عملدرآمد کیا جائے اور سیلاب متاثرہ و پسماندہ علاقوں کے عوام کو خصوصی فائدہ دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *