پانچ گھنٹے موبائل بند، سرکاری گاڑی میں خون کے دھبے، پولیس کو شک کیسے ہوا؟

لاہور(بولونیوز) پولیس نے ایک حاضر سروس ڈی ایس پی کی جانب سے اپنی اہلیہ اور کمسن بیٹی کے دوہرے قتل کا معمہ جدید تفتیش، کال ڈیٹا ریکارڈ اور فارنزک شواہد کی مدد سے حل کر لیا۔

پولیس کے مطابق سرکل تھانہ انویسٹیگیشن کے ڈی ایس پی عثمان حیدر نے 18 اکتوبر 2025 کو تھانہ برکی میں ایف آئی آر درج کروائی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کی اہلیہ سمیعہ اور بیٹی خنسا 27 ستمبر سے لاپتا ہیں اور ممکنہ طور پر اغوا ہو چکی ہیں۔ تاہم پولیس کو ابتدا ہی میں اس بات پر شبہ ہوا کہ دونوں خواتین کی گمشدگی کے تقریباً تین ہفتے بعد رپورٹ کیوں درج کروائی گئی۔

ایس پی انویسٹیگیشن ماڈل ٹاؤن ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق کال ڈیٹا ریکارڈ کے تجزیے کے دوران یہ اہم انکشاف سامنے آیا کہ 25 ستمبر کی رات ساڑھے دس بجے سے صبح تین بجے تک ڈی ایس پی عثمان حیدر کا موبائل فون تقریباً پانچ گھنٹے بند رہا، جو ایک حاضر سروس پولیس افسر کے لیے غیر معمولی بات تھی۔ یہی نکتہ تفتیش کا رخ مدعی مقدمہ کی جانب موڑنے کا باعث بنا۔

بعد ازاں پولیس نے ڈی ایس پی کے گھر اور سرکاری گاڑی کا فارنزک معائنہ کروایا۔ الٹرا وائلٹ روشنی کے ذریعے گھر کے واش روم، بیسن اور بیڈ سے خون کے دھبے ملے، جبکہ سرکاری گاڑی کی سیٹوں کے کور ہٹانے پر اندر موجود فوم خون سے تر پایا گیا۔ ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی کہ یہ خون مقتولہ سمیعہ اور بیٹی خنسا کا ہے۔

ان شواہد کے سامنے آنے کے بعد ملزم نے دورانِ تفتیش اعترافِ جرم کیا اور پولیس کو لاشوں کی نشاندہی کروائی۔ پولیس کے مطابق سمیعہ کی لاش کالا شاہ کاکو کے قریب جبکہ بیٹی کی لاش کاہنہ کے علاقے میں ایک نالے سے برآمد کی گئی، جہاں دونوں کو لاوارث قرار دے کر پہلے ہی دفن کیا جا چکا تھا۔

ڈی آئی جی انویسٹیگیشن سید ذیشان رضا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم نے گھریلو ناچاقی کی بنیاد پر سرکاری گاڑی میں فائرنگ کر کے اپنی اہلیہ اور بیٹی کو قتل کیا۔ پولیس کے مطابق ڈی ایس پی عثمان حیدر کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *