کراچی کی 4 سہیلیوں نے خدمت کی اعلیٰ اور قابل تقلید مثال قائم کردی
کراچی(بولونیوز)مخلوقِ خدا کی بے لوث خدمت عبادت کا درجہ رکھتی ہے اور جو لوگ نیک نیتی کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہوتے ہیں، کامیابی خود ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک روشن مثال شہرِ قائد کراچی کی چار تعلیم یافتہ سہیلیوں کی ہے جنہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے علم کو عام کرنے اور غریب و نادار بچوں تک پہنچانے کا عزم کیا اور آج ان کی کاوشیں پورے ملک میں پہچان بن چکی ہیں۔
آج سے تقریباً 30 سال قبل، 1995 میں کراچی کی چار سہیلیوں نے اس سفر کا آغاز کیا اور ’’بیٹھک اسکول نیٹ ورک‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ابتدا میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ چھوٹا سا تعلیمی منصوبہ ایک دن پورے پاکستان تک پھیل جائے گا۔
نجی چینل کے ایک پروگرام میں بیٹھک اسکول نیٹ ورک کی روحِ رواں اور صدر عائشہ سلمان نے منصوبے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پہلا باقاعدہ پراجیکٹ صرف 15 بچوں سے شروع کیا گیا تھا۔ آج ملک بھر میں بیٹھک اسکول نیٹ ورک کے تحت 140 اسکول قائم ہو چکے ہیں جہاں تقریباً 20 ہزار بچے زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ اب تک 50 ہزار سے زائد بچے بنیادی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان اسکولوں میں 1200 خواتین اساتذہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ فیس 50 روپے سے 200 روپے تک رکھی گئی ہے، تاہم بعض صورتوں میں فیس لینا بھی لازمی نہیں ہوتا، بلکہ یہ محض احساسِ ذمہ داری کے تحت وصول کی جاتی ہے۔
عائشہ سلمان نے کہا کہ انہوں نے بچپن سے اپنی والدہ اور ان کی سہیلیوں کی جدوجہد کی کہانیاں سنیں، جنہوں نے اس تعلیمی مشن کا آغاز اپنے ڈرائنگ روم اور بیٹھک سے کیا۔ ابتدا میں مختلف کچی آبادیوں میں چھوٹے چھوٹے اسکول قائم کیے گئے جنہیں بعد میں ’’بیٹھک اسکول‘‘ کا نام دیا گیا، جبکہ سال 2003 میں بیٹھک اسکول نیٹ ورک کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی۔
ان کے مطابق اس نیٹ ورک سے اب تک تقریباً 50 ہزار طلبہ و طالبات فارغ التحصیل ہو چکے ہیں، جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس بھی شامل ہیں، جو آج معاشرے کی خدمت میں مصروف ہیں۔


