اسکیم 33 میں غیر قانونی تعمیرات، سرکاری دعوے بے اثر

کراچی(بولونیوز)حساس رہائشی اسکیم 33 میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس نے محکمہ بلدیات اور حکومت سندھ کے دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسکیم 33 میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل قریشی کی نگرانی میں بعض عمارتوں میں منظور شدہ نقشوں سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی فلورز ڈالے جا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تعمیراتی حدود کو واضح طور پر عبور کیا گیا، تاہم متعلقہ افسران کی جانب سے نہ تو تعمیرات رکوانے کے لیے مؤثر کارروائی کی گئی اور نہ ہی بلڈنگ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکا۔ اس صورتحال نے وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف زیرو ٹالرنس کے دعوؤں کو عملی طور پر بے معنی بنا دیا ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق اسکیم 33 میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی تعمیرات نہ صرف شہری سہولیات پر بوجھ بن رہی ہیں بلکہ کسی بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکیم 33 میں جاری غیر قانونی تعمیرات کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل قریشی اور محکمہ بلدیات کے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر فائل ہونے تک کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *