ناسا کے سائنسدانوں کا انکشاف: خلا میں پانی کا دیوہیکل بادل دریافت

اسلام آباد(بولونیوز)ناسا اور بین الاقوامی ماہرینِ فلکیات نے خلا میں پانی کے ایک ایسے عظیم الشان ذخیرے کا انکشاف کیا ہے جو انسانی تصور سے کہیں بڑھ کر ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ پانی کسی دریا یا سمندر کی صورت میں نہیں بلکہ ایک انتہائی وسیع و عریض واٹر ویپر کلاؤڈ (پانی کے بخارات پر مشتمل بادل) کی شکل میں موجود ہے، جو زمین سے تقریباً 12 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بادل میں موجود پانی کی مقدار زمین کے تمام سمندروں کے مجموعی پانی سے کھربوں گنا زیادہ ہے، جبکہ یہ مقدار ہماری ملکی وے کہکشاں میں پائے جانے والے تمام پانی—خواہ وہ بخارات کی صورت میں ہو یا برف کی شکل میں—سے بھی ہزاروں گنا زیادہ بتائی جاتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ پانی اتنا قدیم ہے کہ اس کا وجود کائنات کی ابتدائی تشکیل کے فوراً بعد سامنے آیا۔

فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس دیوہیکل بادل کے مرکز کے قریب ایک انتہائی طاقتور بلیک ہول موجود ہے جسے کواسار کہا جاتا ہے۔ یہ کواسار اپنی غیر معمولی توانائی کی وجہ سے اردگرد کے ماحول کو شدید طور پر متاثر کرتا ہے اور اسی عمل کے دوران پانی کے بخارات کا یہ وسیع ذخیرہ قائم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بلیک ہول ہماری کہکشاں کے مرکزی بلیک ہولز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ طاقتور ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق کائنات کی وسعت اور اس میں موجود عجائبات آج بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں، اور ہر نئی دریافت انسان کے سامنے قدرت کے نئے راز کھول دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی دریافتیں کائنات کی عظمت، توازن اور نظم و ضبط کی واضح مثال ہیں، جو انسان کو اپنی محدود صلاحیتوں کا احساس دلاتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *