وزارتِ اطلاعات کے رویّے اور پی ٹی وی میں تقرریوں پر اعتراضات
اسلام آباد(بولونیوز)مسلم لیگ (ن) کے سرگرم کارکن RA شہزاد نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ وزارتِ اطلاعات سے وابستہ کچھ افراد ان کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور اس کی وجہ وہ بے ضابطگیاں ہیں جن پر وہ سوال اٹھاتے رہے ہیں۔
RA شہزاد کے مطابق ن لیگ کی رکنِ قومی اسمبلی آمنہ بتول پہلے پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ تھیں اور بعد ازاں مخصوص نشست پر ایم این اے بنیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے آمنہ بتول کے شوہر سید عمیر علی—جو پہلے پنجاب بیت المال سے وابستہ تھے—کو پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) میں انسانی وسائل کے ڈائریکٹر کے طور پر خصوصی اسکیل پر تعینات کرایا، جس کی تنخواہ ساڑھے چھ لاکھ روپے مقرر کی گئی۔
RA شہزاد کا کہنا ہے کہ یہ تقرریاں اُس وقت ہوئیں جب پی ٹی وی کا مستقل بورڈ موجود نہیں تھا، جبکہ عدالت قبل ازیں قرار دے چکی ہے کہ بورڈ نہ ہونے کی صورت میں کی جانے والی مستقل تقرریاں غیر قانونی شمار ہوتی ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے آئی ایم ایف کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اداروں میں کرپشن کے باعث پاکستان کو سالانہ ساڑھے چار ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ ان کے مطابق 2022–2023 میں پی ٹی وی 870 ملین روپے کا منافع کما رہا تھا، مگر حالیہ دنوں میں خسارے کا شکار بتایا جا رہا ہے، جس کی وجہ وہ مبینہ اقربا پروری اور انتظامی بے ضابطگیوں کو قرار دیتے ہیں۔
RA شہزاد کا کہنا ہے کہ مختلف حکومتی اقدامات پر سوال اٹھانے اور دستاویزی شواہد سامنے لانے کی وجہ سے انہیں سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
حکومت یا متعلقہ وزارت کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔


