ایڈمن سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات دوبارہ شروع، ایس بی سی اے افسران پر مالی مفاہمت کے الزامات
کراچی(بولونیوز) ایڈمن سوسائٹی بلاک 3 کے پلاٹ نمبر B-190 پر غیر قانونی تعمیرات ایک بار پھر شروع ہو گئی ہیں، حالانکہ ایس بی سی اے نے اسی مقام پر سرکاری ڈیمالیشن فنڈ استعمال کرتے ہوئے کارروائی کی تھی۔ ذرائع کے مطابق بعض ایس بی سی اے افسران نے مبینہ طور پر بلڈر سے مالی مفاہمت کے بعد تعمیرات بحال کرادیں، جس سے سرکاری فنڈ کے ضیاع کے حوالے سے بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بلڈر کے حوالے سے دعویٰ سامنے آیا ہے کہ وہ کھلے عام سسٹم مافیا کو بھتہ دینے کی بات کرتا ہے، جب کہ سندھ حکومت اور وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ کی جانب سے ابھی تک اس صورتحال پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
شہری حلقوں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا وزیرِ بلدیات ان غیر قانونی تعمیرات کو رکوا سکیں گے یا پھر سسٹم مافیا اسی طرح سرگرم رہے گا؟ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اگر ایسی کارروائیوں کو نہ روکا گیا تو شہر میں بے ہنگم تعمیرات کے مسائل مزید بڑھ جائیں گے۔


