افواجِ پاکستان کے خلاف بیانیہ قبول نہیں، قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا: سیاسی رہنما کا بیان
اسلام آباد(بولونیوز) ایک سیاسی رہنما نے کہا ہے کہ افواجِ پاکستان اور عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کے بارے میں مثبت تنقید ہر شہری کا حق ہے، تاہم کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوام کو اپنی ہی مسلح افواج کے خلاف اکسانے کی کوشش کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی فوج بھارتی ہندوتوا نظریے، دہشت گردوں اور داخلی و خارجی خطرات کے مقابل ملک کا مؤثر دفاع کر رہی ہے۔ رہنما کے مطابق ریاست اور اس کی سیکیورٹی پالیسیوں پر تنقید تو کی جا سکتی ہے، مگر ”خوارج عناصر“ یا دہشت گرد گروہوں کے لیے نرمی کی تجاویز قومی مفاد کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فیصلے اسلام آباد میں ہوں گے، نہ کہ کابل یا نئی دہلی میں۔ ان کا مؤقف تھا کہ قومی سلامتی مذاکرات یا رعایت کے بجائے مضبوط دفاع اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے قائم رہتی ہے۔
مزید کہا گیا کہ فوجی جوانوں کی روزانہ کی قربانیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ریاست کی بقا سب سے مقدم ہے اور کوئی شخص یا سیاست ریاست سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
سیاسی رہنما نے ایک سابق وزیرِاعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاست کا محور افواجِ پاکستان پر الزامات لگانا اور اداروں کے خلاف بیانیہ تشکیل دینا ہے تاکہ خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت کی کارکردگی پر سوالات نہ اٹھیں۔ ان کے مطابق معاشی بحران اور ریاستی معاملات پر کیے گئے بعض دعوے درست ثابت نہیں ہوئے۔
رہنما نے کہا کہ فوج کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوششیں ملک کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں، جبکہ قومی ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔


