چین کے ‘انتہائی سستے’ ہائپرسونک میزائل نے تہلکہ مچادیا
بیجنگ(بولونیوز) چین نے ہائپرسونک ٹیکنالوجی میں ایک حیران کن پیش رفت کرتے ہوئے نیا ہائپرسونک گلائیڈ میزائل YKJ-1000 متعارف کرا دیا ہے، جس نے عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کو ششدر کر دیا ہے۔
ایرو اسپیس کمپنی لِنگ کانگ تیان شینگ کی تیار کردہ یہ جدید میزائل 1,300 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آواز کی رفتار سے سات گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتا ہے۔
اپنے منفرد ڈیزائن کی وجہ سے اس میزائل کو “سیمنٹ کوٹڈ میزائل” بھی کہا جا رہا ہے، کیونکہ اس کی سطح ایک خاص قسم کے کنکریٹ نما گرمی برداشت کرنے والے فوم سے ڈھکی ہے، جو عام طور پر تعمیراتی صنعت میں استعمال ہوتا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق، کامیاب جنگی آزمائشوں کے بعد اس میزائل کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کی جا رہی ہے۔ حیران کن طور پر اس کی فی یونٹ قیمت صرف 99 ہزار امریکی ڈالر بتائی گئی ہے، جو دنیا کے مہنگے امریکی دفاعی نظام کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
انتہائی کم لاگت اور ہائپرسونک رفتار نے عالمی دفاعی ماہرین کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قدر سستا ہائپرسونک میزائل مستقبل کی عسکری حکمت عملیوں کو تبدیل کر سکتا ہے، کیونکہ بیشتر ممالک کے دفاعی نظام اس کے مقابلے میں بے حد مہنگے ہیں۔
فوجی ٹیکنالوجی کے ماہر پروفیسر وی ڈونگ شو کے مطابق، “اگر YKJ-1000 عالمی منڈی میں آیا تو اس کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوگا، کیونکہ کئی ممالک ابھی تک ہائپرسونک ہتھیار بنانے میں ناکام ہیں۔”
دوسری جانب کچھ ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ اتنے کم بجٹ میں ہائپرسونک ٹیکنالوجی کے مہنگے اجزا، انجن اور مخصوص فیول کیسے تیار کیے گئے؟ اس حوالے سے کمپنی نے جلد تفصیلی وضاحت جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار YKJ-1000 کو ہائپرسونک ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جو رفتار، لچک اور دفاعی نظاموں کو چکمہ دینے کی صلاحیت کے باعث جدید جنگی حکمت عملی میں مرکزی اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔


