کچرا چُننے والے بچے کا دعویٰ، پولیس اہلکاروں پر تشدد کا الزام
کراچی(بولونیوز)ننھےابراہیم کی گمشدگی اور بعدازاں اس کی لاش ملنے کے واقعے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔علاقے کے رہائشیوں اور عینی شاہدین کے مطابق بچے کی لاش سب سے پہلے ایک کچرا چننے والے لڑکے نے کچرے کے ڈھیر سے برآمد کی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد پولیس اہلکار موقع پر پہنچے تو مبینہ طور پر اس لڑکے سے نہ صرف سخت تفتیش کی گئی بلکہ اسے تھپڑ بھی مارا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے لاش اپنی تحویل میں لے لی۔
مقامی افراد اور سماجی کارکنان نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے بچے کی لاش ملنے کا کریڈٹ خود لینے کی کوشش کی، جبکہ اصل اطلاع اور تلاش کچرا چننے والے لڑکے نے کی تھی۔
علاقہ مکینوں نے حکومتِ سندھ اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ:
کچرا چننے والے لڑکے پر مبینہ تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور انہیں برطرف کیا جائے۔
بچے کو ہیرو قرار دیتے ہوئے اس کے روزگار یا تعلیم کی ذمہ داری سرکاری سطح پر اٹھائی جائے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ لڑکے نے ذمہ داری اور انسانی ہمدردی کا مثالی ثبوت دیا ہے، جس کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ پولیس کی جانب سے واقعے سے متعلق سرکاری موقف تاحال سامنے نہیں آیا۔


