نیپا واقعہ،ماں باپ کی تڑپ کا احساس ہے، سب کے ساتھ رابطے میں ہوں، میئر کراچی

کراچی(بولونیوز)میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ نیپا چورنگی پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد وہ مسلسل متاثرہ خاندانوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور بچے کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیموں کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ماں باپ کی تڑپ کا احساس ہے، پانچ سو میٹر تک کھدائی کی گئی ہے، لیکن بچہ اب تک نہیں ملا۔”

پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سخت سوال—”اگر یہ حکمران کا بچہ ہوتا تو کیا آپ کا یہی ردعمل ہوتا؟ آپ کو نیند کیسے آجاتی ہے؟”—کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ وہ حکومت کا حصہ ہیں اور خود موقع پر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اس طرح کی اشتعال انگیز گفتگو کے باعث ہی ہم معاملات حل نہیں کرپاتے۔ اگر سڑک بلاک کرنے سے والدین کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو سو بسم اللہ۔”

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ انہوں نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوانے کی ہدایت کردی ہے تاکہ معاملے کی شفاف تحقیقات ہوسکیں۔ ان کے مطابق کچھ عناصر اس سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

سوئمنگ پول کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں میئر کراچی نے کہا کہ “آپ میرا احتساب نہیں کر سکتے، قانون کے مطابق جس کی غفلت ہوگی کارروائی کی جائے گی۔” انہوں نے کہا کہ ان کے لیے آسان تھا کہ معاملے کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال دیں، مگر حقائق دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ ان کی منافقت بے نقاب نہ ہو۔”

صحافی نے سوال کیا کہ نیپا واقعے کا ذمہ دار کون ہے اور سوشل میڈیا پر “مرتضیٰ وہاب استعفیٰ دو” کے ٹرینڈ پر ان کا کیا ردعمل ہے؟ اس پر میئر کراچی برہم ہوگئے اور کہا کہ “ہم فیکٹ فائنڈنگ کر رہے ہیں۔ میں اپنے رب کو جوابدہ ہوں، آپ بھی جواب دہ ہیں۔ آپ سیاسی تقریر کر رہے ہیں، بہتر ہوتا سوال کرتے۔”

مرتضیٰ وہاب نے مزید بتایا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ واٹر بورڈ سے مشینری طلب کی گئی تھی مگر فراہم نہیں کی گئی۔ اس پر انہوں نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں 55 فیصد مین ہول کے ڈھکن یو سی چیئرمینز کو دے دیے گئے تھے، مگر نیپا چورنگی واقعے کے متعلق شکایت واٹر بورڈ کے 1334 نمبر پر درج ہی نہیں کروائی گئی۔ ان کے مطابق گزشتہ سال 88 ہزار مین ہولز پر ڈھکن نصب کیے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *