مائینز ورکرز کے تحفظ اور حقوق کے لیے قانون سازی سے متعلق درخواست

کراچی(بولونیوز)سندھ ہائی کورٹ میں مائینز ورکرز کے حقوق اور تحفظ کے لیے قانون سازی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس دوران عدالت نے سندھ حکومت اور سیکریٹری مائینز اینڈ منرل سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔

عدالت نے مائینز اینڈ منرل رولز میں ترمیم سے متعلق پیشرفت جاننے کے لیے متعلقہ سرکاری افسر کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرنے کا حکم دیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری وکیل نے گزشتہ سماعت میں یقین دہانی کروائی تھی کہ مائینز ایکٹ 2023 میں ترمیم اور نئے رولز کی تیاری کا معاملہ کابینہ کو بھیج دیا جائے گا، لیکن اب تک کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا رولز میں ترمیم سے متعلق حکومت نے کوئی فیصلہ کیا ہے؟ جس پر سرکاری وکیل نے لاعلمی ظاہر کی۔ عدالت نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسر کو آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے تاکہ صورتحال واضح ہو سکے۔

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ 1923 کے قانون کے تحت بھی حکومت پر لازم تھا کہ مائینز ورکرز کے لیے ایک آزاد باڈی تشکیل دے جو اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان کے تحفظ، صحت، تعلیم اور تنخواہوں کے معاملات دیکھے۔

وکیل نے مزید کہا کہ عدالت ایک دوسری درخواست میں بھی قرار دے چکی ہے کہ کول مائینز ورکرز کے لیے مؤثر قانون سازی ضروری ہے تاہم سندھ واحد صوبہ ہے جہاں آج تک مائینز ورکرز کے تحفظ سے متعلق کوئی جامع قانون موجود نہیں۔

عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *