بلوچستان میں غیر قانونی تیل اسمگلنگ میں نمایاں کمی
کوئٹہ (بولونیوز) بلوچستان میں جاری سخت کریک ڈاؤن کے بعد ایران سے غیر قانونی تیل کی اسمگلنگ میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پہلے روزانہ تقریباً دو کروڑ پانچ لاکھ لیٹر تیل بلوچستان کے راستے پاکستان میں آتا تھا جو اب کم ہو کر صرف ستائیس لاکھ لیٹر رہ گیا ہے۔
حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے بڑے اسمگلنگ روٹس کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے اور اہم شاہراہوں اور سرحدی علاقوں کو سخت نگرانی میں لے لیا گیا ہے۔ آٹھ اہم تیل گزرنے والے پوائنٹس پر بھی کڑی نگرانی جاری ہے اور ہر روز سینکڑوں گاڑیاں پکڑی جا رہی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن کے مثبت اثرات نہ صرف اسمگلنگ کی شرح میں کمی بلکہ ملکی معیشت اور سکیورٹی میں بھی واضح بہتری کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ اب اسمگلرز کے لیے تیل غیر قانونی طور پر لانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے اور غیر قانونی کاروبار کے دروازے تقریباً بند ہو چکے ہیں۔



