سپریم کورٹ غیرقانونی الاٹمنٹ پرنیب رپورٹ جھوٹ قرار

کراچی(بولونیوز)سپریم کورٹ نے کراچی میں ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ محکمہ متروک املاک کی زمین کس کھاتے میں دیدی،کتنے قطری پیدا ہوں گے ملک چلانے کے لئے ،کتنے قطریوں کو زمین دی گئی، پاکستان کے لئے اس قطری نے کیا خدمات دیں جو زمین الاٹ کی گئی،رپورٹ چیئرمین نیب سے مانگی مگر ایک تفتیشی افسر رپورٹ دے رہا ہے ، جس پر تفتیشی افسر کو ابھی جیل بھیج دیتے ہیں، نیب جھوٹی رپورٹ ہمارے سامنے مت پیش کرے ۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بینچ نے الٰہ دین پارک سے متصل عمارت کی تعمیر کے کیس کی سماعت کی۔تفتیشی افسر نیب رمیش کمار نے رپورٹ پیش کی۔ ججز نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ رپورٹ چیئرمین نیب سے مانگی مگر ایک تفتیشی افسر رپورٹ پیش کررہا ہے ۔جسٹس گلزاراحمد نے نیب حکام کی سرزنش کرتےہوئےکہا کہ نیب والےبھی ان سے مل گئے ، غیر قانونی الاٹمنٹ پر نیب بھی جھوٹی رپورٹ دے رہا ہے ، اس عمارت کی الاٹمنٹ ہمارے فیصلے کیخلاف ہوئی۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ایک قطری کو محکمہ متروک املاک کی زمین کس کھاتے میں دی گئی۔ عدالت نے نیب رپورٹ مسترد کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں نئی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ کتنے قطری پیدا ہوں گے ملک چلانے کے لئے ، کتنے قطریوں کو زمین دی گئی، پاکستان کے لئے اس قطری نے کیا خدمات دیں جو زمین الاٹ کی گئی، ایسا مت کریں، ملک کس حال پر پہنچ گیا ہے ، ایسی جھوٹی رپورٹ ہمارے سامنے مت پیش کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں