کشمیرکے مسلمانوں پربھاری مظالم،طلبہ کمیونٹی کا شدید احتجاج

نئی دہلی(بولونیوز)بھارت کی جانب سے کشمیر کے خصوصی اسٹیٹس کے خاتمے اور مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی مظالم کے خلاف آج بروز جمعرات تہران کی طلبہ کمیونٹی نے بھارتی سفارت خانے کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ احتجاج میں کشمیری، پاکستانی اور ایرانی طلبہ نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک مظاہرین نے بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر بھارت اور پاکستان کےدرمیان ایک متنازعہ مسلہ ہے جسے کشمیری عوام کی امنگوں کےمطابق حل ہونا چاہیے۔ مقررین کے بقول بھارت کو یکطرفہ طور پر کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔مقررین نےکہا کہ گذشتہ چند سالوں میں بھارت نے کشمیر میں ہر وہ ظلم روا رکھا جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں میں ممنوع قراردیا گیا ہے۔ مقررین کےبقول بھارت نے پوری ریاست میں کرفیو لگا کر اور کشمیری قیادت کو نظربند کرکےجمہوری دورمیں بدترین روایت قائم کی ہوئی ہے۔مقررین نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں فوج کی تعداد میں بےپناہ اضافہ شہریوں کی آزادی اورحقوق سلب ہونے کیوجہ بن رہا جس کیوجہ سے پوری وادی میں کاروبار زندگی درہم برہم اورلوگ گھروں میں محصورہوکررہ گئےہیں۔احتجاجی مظاہرے کے مقررین نے مطالبہ کیا کہ بھارت جلد از جلد ریاست جموں اور کشمیر سے اپنی افواج کو واپس بلائے اور کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے ٹھوس اقدامات کرے۔احتجاجی مظاہرے کے مقررین نے حریت رہنماؤں اور تحریک آزادی کشمیر کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں