ہرطرف ہوکاعالم،فوج پرپتھراؤ،3روزمیں6 شہری شہید

سرینگر(بولونیوز)مقبوضہ کشمیر میں شہرخموشاں جیسے سناٹے کا راج ہے، تیسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے، انٹرنیٹ، موبائل، لینڈلائن فون بند ہیں۔ خاردار تاریں لگا کر سڑکیں بند کر دی گئیں، ہزاروں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی سے وادی فوجی حصار میں ہے تاہم فورسز پر جگہ جگہ پتھراؤ جاری ہے۔ بھارتی ریاستی دہشتگردی میں تین روز کے دوران 6 کشمیری شہید ہو گئے ہیں۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی میں تیسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے، کسی کو گھر سے باہر نکلنےکی اجازت نہیں دی جا رہی۔ بھارتی خوف کا عالم یہ ہے کہ انٹرنیٹ، موبائل لینڈ لائن سمیت رابطے کے تمام ذرائع بند کیے ہوئے ہیں۔ خاردار تاریں اور ہزاروں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی سے وادی بڑی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔مقبوضہ وادی کے علاقے لداخ میں نقل و حمل کے ذرائع معطل ہیں، خوراک اور پانی کی تلاش میں باہرنکلنےپرلوگوں کو جگہ جگہ روکا جا رہا ہے، بارہمولا میں شہریوں نے فوج پر پتھراؤ کیا گیا۔ پولیس کی گاڑیوں سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ دو سے زیادہ لوگ نظرآنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم پتھرکےدورمیں پہنچ گئے ہیں، مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کا نام لینے والا کوئی نہیں رہا، ماضی میں بھارت کا ساتھ دینے والے بھی اب آزادی مانگنے لگے، بھارت نے جو کرنا تھا کر لیا، اب کرفیو لگا نے سے کچھ ٹھیک نہیں ہو گا۔ آج کا سرینگر کسی بھی جنگی علاقے سے مختلف نظر نہیں آتا۔ دکانیں اور بازار بند ہیں، سکولز، کالجز بھی بند ہیں۔شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ ایک لحاظ سے بھارت سے کشمیر کی شادی تھی جو ٹوٹ گئی، ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ بھارت یہ قدم اٹھائے گا، ہم خود کو آزاد سمجھ رہے تھے، آج پتہ چلا کہ ہم آزاد نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں