ایڈیشنل سیشن ججزکی بھرتیوں کیلئے تحریرامتحانات کے نتائج کا اعلان

لاہور(بولونیوز)لاہور ہائی کورٹ کے زیر انتظام ایڈیشنل سیشن ججز کی بھرتیوں کےلئے ہونے والے تحریری امتحانات کےنتائج کااعلان۔ہائی کورٹ نےایڈیشنل سیشن ججزکی بھرتیوں کےلئےہونےوالےامتحانات کااعلان کردیا۔39 امیدوار ایڈیشنل سیشن جج کےامتحان میں کامیاب قرار۔کامیاب ہونےوالوں میں ایک خاتون بھی شامل۔قائم مقام چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے خودکار سسٹم میں پاسورڈ درج کرکے نتائج حاصل کئے۔شفاف اور بہترین امتحانات پر امتحانی کمیٹی اور ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔سارا عمل بہت محنت طلب تھا لیکن فاضل ججز نے بہترین انداز میں سرانجام دیا۔ایڈیشنل سیشن ججز کےلئے مقابلے کے امتحانات کا انعقاد عدالت عالیہ کا انقلابی اقدام ہے۔میں خود بھی امتحانی کمیٹی میں کام کرچکا ہوں۔کسی بھی امتحان میں شفافیت برقرار رکھنا بہت مشکل ترین کام ہوتا ہے۔مشکل امتحانات کے انعقاد کا مقصد بہترین ججزکاحصول ہے۔بہترین لوگوں کاچناوایک مشکل عمل ہے،کامیاب ہونےعدلیہ کے لئے اثاثہ ثابت ہونگے۔کامیاب قرارپانےوالے امیدوار بہت زیادہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔نئے سلیبس کے تحت ایڈیشنل سیشن ججز کی بھرتیوں کےلئے یہ دوسرا مقابلہ جاتی امتحان تھا۔ایڈیشنل سیشن ججز کی خالی آسامیوں پر 1323 درخواستیں موصول ہوئیں۔4 اپریل سے 11اپریل تک جاری رہنےوالےتحریری امتحانات میں663امیدواروں نے شرکت کی جن میں132خواتین شامل تھیں۔تقریب میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس عاطر محمود، جسٹس چودھری محمد اقبال، جسٹس سردار احمد نعیم سمیت دیگر ججز کی شرکت۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، قائم مقام رجسٹرار، ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی شریک۔لاہور ہائی کورٹ و لاہور بار ایسوسی ایشنزکےعہدیداران کی شرکت۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں قائم امتحانی کمیٹی نے تمام مراحل کی نگرانی کی۔امتحانی کمیٹی میں جسٹس چودھری محمد اقبال اورجسٹس سرداراحمد نعیم بھی شامل ہیں۔تحریری امتحانات کےلئے لاہور، راولپنڈی، ملتان اور بہاولپور میں امتحانی مراکز قائم کئے گئے۔تمام امتحانی مراکز پر موبائل جیمرز، واک تھروگیٹس اور ہنگامی حالات کےلئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔امتحانی کمروں کی خفیہ کیمروں سےنگرانی بھی کی گئی۔تحریری امتحان کےآغازسےلیکراختتام تک تمام مراحل کومکمل طورپرشفاف بیایا گیا۔جوابی کاپیوں کی لاہور ہائی کورٹ موصولی پرخفیہ رولنمبرزجاری کئےگئے۔جوابی کاپیوں کی چیکنگ لاہور ہائی کورٹ میں فاضل امتحانی کمیٹی کی نگرانی میں ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں