عوام کولاکھوں کی تعداد میں سستےگھرفراہم کرنےہوں گے

کراچی(بولونیوز)وزیر بلدیات سندھ اور چیئرمین ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی شہر کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہمیں اسی تیزی سے عوام کو لاکھوں کی تعداد میں سستے اور آسان اقساط پر پلاٹس اور گھر فراہم کرنے ہوں گے۔ شہر سے غیر قانونی تعمیرات اور قبضے اسی صورت ختم ہوسکتے ہیں، جب ہم عوام کو قانونی طورپران کے مکانات بنانے کے لئے وسائل فراہم کریں گے۔ ایم ڈی اے میں ماضی میں تجربات بہتر نہ ہونے کے باعث اسکیم 45کےاعلان کےبعد عوامی تحفظات رہےلیکن ہم نے عوام کو اعتماد میں لیا اور ہمیں خوشی ہے کہ مذکورہ اسکیم میں1لاکھ 76ہزار سے زائد لوگوں نے اس میں فارم جمع کروائے۔ ایل ڈی اے سمیت مختلف رہائشی اسکیموں کے مسائل کو سنجیدگی سےدیکھا جارہا ہے اور جلد ہی ہم ان تمام اتھارٹیز کے مسائل کو حل کرکے عوام کو سستی اور آسان اقساط کی رہائش فراہم کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز مقامی ہوٹل میں ایم ڈی اے کی تیسر ٹاؤن اسکیم 45کے20 ہزار 1 سو 74 پلاٹس کی قرعہ اندازی کی تقریب سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سےایم ڈی اے کےایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل محمد سہیل،آباد کےچیئرمین حسن بخشی،ڈائریکٹرلینڈ ایم ڈی اے ایوب فاضلانی اوردیگرنےبھی خطاب کیا،۔ جبکہ تقریب میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈی جی ظفر احسان، کے ڈی اے کے ڈی جی عبدالقدیر منگی،ڈی سی ویسٹ زاہد میمن سمیت دیگر کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ ایم ڈی اے کی مذکورہ اسکیم کے اعلان کے بعد ہمیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ ایم ڈی اے کی ماضی کی اسکیموں کا ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں رہا تھا لیکن ہم نے عوام کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ مذکورہ اسکیم کے ساتھ ساتھ ماضی کی اسکیموں میں بھی ترقیاتی کاموں کو آئندہ تین سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اس یقین دہانی کے بعد عوام کی جانب سے ہمیں مثبت ردعمل ملا اور اس اسکیم کے 20 ہزار سے زائد پلاٹس کے لئے ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد عوام نے فارم پر کئے۔ سعید غنی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 2008 سے لے کر اب تک ہزاروں کی تعداد میں سستے اور آسان اقساط پر پلاٹس کی فراہمی کی لیکن خاطرخواہ تشہیر نہ ہونے کے باعث متعدد اسکیموں کے بارے میں عوام کو معلوم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام اور زمینوں پر قبضے کے خاتمے کا واحد حل عوام کو جائز اور قانونی طور پر اپنے گھر تعمیر کرنے کے لئے وسائل فراہم کرنا ہے اور ہم اس سلسلے میں تمام اقدامات کو بروئے کار لارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ اسکیم کے آغاز سے قبل ہی میں نے ایم ڈی اے کے تمام ذمہ داران کو متنبہ کردیا تھا کہ یہ اسکیم 3 سال میں مکمل کرکے عوام کو ان کے پلاٹس کے قبضے انہیں فراہم کرنے ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ ماضی کی اسکیم میں بھی تمام ترقیاتی کاموں کو مکمل کرکے وہاں بھی پلاٹس کے قبضے کامیاب ہونے والوں کو فراہم کرنے ہوں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں یقین سے یہ بات کہتا ہوں کہ آئندہ 6 ماہ سے 1 سال کے دوران عوام کو تیسر ٹاؤن کی ان اسکیموں میں کام ہوتا نظر آئے گا اور آئندہ سال میں تمام کامیاب ہونے والوں کو ان کے پلاٹس کے قبضے فراہم کردئیے جائیں گے تاکہ وہ اس پر اپنا مکان تعمیر کرسکیں۔ بعد ازاں صوبائی وزیر نے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کرکے کامیاب ہونے والوں کے ناموں کا اعلان کیا۔ اس موقع پر لنک کے ڈاؤن ہونے کے باعث کچھ لمحہ تاخیر ہوئی، جس پر صوبائی وزیر نے موجود تمام حاضرین اور میڈیا سے معذرت طلب کی۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر لینڈ ایم ڈی اے نے اس اسکیم کے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسکیم میں 80 گز کے 4866، 120 گز کے 14660، 240 گز کے 442 اور 400 گز کے 204 پلاٹس کے لئے 1 لاکھ 76 ہزار لوگوں نے بینک میں فارم بھرے۔ انہوں نے بتایا کہ 80 گز کے پلاٹس کے لئے 42497 جبکہ 120 گز کے پلاٹس کے لئے 87987 درخواستیں بھری گئی۔ اسی طرح 240 گز کے پلاٹس کے لئے 27068 اور 400 گز کے پلاٹس کے لئے 20856 فارم پر کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ کامیاب ہونے والے تمام پلاٹ ہولڈرز کو جلد ہی ان کی کامیابی کے خطوط ان کے پتہ پر ارسال کردئیے جائیں گے اور انہیں ان پلاٹس کی اقساط کی ادائیگی کا شیڈول بھی دے دیا جائے گا جبکہ جو ناکام ہوئے ہیں انہیں آئندہ 1 ماہ میں جس بینک میں انہوں نے فارم جمع کروایا تھا اسی بینک سے رقم واپس مل جائے گی۔ اس موقع پر اے ڈی جی سہیل خان نے تقریب میں شرکت پر صوبائی وزیر سعید غنی سمیت دیگر مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور دوران قرعہ اندازی لنک کے ڈاؤن ہونے کے باعث ہونے والی تاخیر پر معذرت کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں