ملیرمیں آپریشن کےبعدغائب ہونےوالا قبضہ مافیا پھرفعال ہوگیا

کراچی(بولونیوز)ملیرمیں کراچی آپریشن کےبعدغائب ہونےوالا قبضہ مافیا پھرفعال ہوگیا، سرکاری اراضی پر غیرقانونی رہائشی اورتجارتی پروجیکٹس شروع کردیئے،لینڈ مافیا کےکارندوں نےناکلاس اراضی پر چائنا کٹنگ کے ذریعے 80گز اور 120گز کے ہزاروں پلاٹس سادہ لوح عوام اسٹامپ پیپر پر فروخت کردیئے، سرکاری زمینوں پر قبضے روکنے کے ذمہ دار محکمہ بورڈ آف ریونیو کے افسران، ڈی سی آفس ملیر کے مختیار کاروں، تپہ داروں، پٹواریوں، کراچی پولیس سمیت محکمہ انٹی انکروچمنٹ سیل/ فورس سندھ کےافسران و ملازمین مبینہ بھاری رشوت کے عیوض خاموش تماشائی بن گئے، شہریوں سے جعلسازی کے ذریعے کروڑوں روپے لوٹ لئے گئے، تفصیلات کے مطابق ضلع ملیر کی حدود میں واقع ملیر ندی میں سرکاری زمینوں پر محکمہ ریونیو اور ڈی سی آفس ملیر کے کرپٹ مختیار کاروں، پٹواریوں اور ملیر پولیس کی ملی بھگت سے لینڈ مافیا کے کارندوں نے ناکلاس اراضی پر چائنا کٹنگ کے ذریعے 80گز اور 120گز کے ہزاروں کی تعدار میں پلاٹ سادہ لوح عوام کو تین لاکھ روپے سے لے کر چھ لاکھ روپے تک فی پلاٹ اسٹامپ پیپر پر فروخت کردیئے ہیں، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت ملیر ندی کی سر کاری زمینوں پر قبضے کا آغاز کیا گیا ہے ان میں ضلع ملیر میں آنے والی ندی سرفہرست ہے، جس میں 11ناموں سے غیر قانونی سوسائٹیاں اور کئی گوٹھ ندی کی زمین پر قبضہ کرکے آباد کئے گئے ہیں ، ان کاموں کو کچھ ماہ پہلے مکمل طور پر بند کروا دیا گیا تھا جو اب دوبارہ شروع کر دئیے گئے ہیں اور ملیر ندی کی زمین پر چائنا کٹنگ کرکے کاٹے جانے والے پلاٹوں کی فروخت کا آغاز ہو گیا ہے۔ ملیر ندی میں ڈی سی آفس ملیر، محکمہ ریونیو سندھ اور پولیس کی سرپرستی میں جو سوسائٹیاں اور گوٹھ آباد کئے گئے ہیں ان میں بٹغل ٹاﺅن، یارو گوٹھ، یار محمد گوٹھ، عباس ٹاﺅن، خیبر سٹی، سمر گارڈن فیز ون سے لے کر سمر گارڈن فیز تھیری، مکہ سٹی، نیو ماروی گوٹھ، بابا رزاق ٹاﺅن، چراغ کالونی نمبر 2، آغا ٹاﺅن، ماہم ٹاﺅن، اور رضا سٹی شامل ہیں، مزکورہ تمام زمینوں کو زرعی بنیاد پر 30سالہ لیز کے تحت حاصل کیا گیا تھا، جسے بعد میں پلاٹ کاٹ کر سادہ لوح افراد کو فروخت کیا گیا ہے، جس میں 30فیصد کے پارٹنر سیاسی جماعت ملیرکے عہدیدار میں رقم تقسیم کی گئی ہے، جبکہ 20فیصد رقم لینڈ مافیا کی جانب سے محکمہ انکروچمنٹ بن قاسم کے افسران میں تقسیم کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ملیر ندی کی سر کاری اراضی پر قبضے کے بعد لینڈ مافیا کے کارندوں نے مدینہ کالونی سے متصل قبرستان کی زمین پر بھی ہاتھ صاف کر نا شروع کر دیا، مزکورہ قبرستان کی زمین پر آغا ٹاﺅن کے نام سے چائنا کٹنگ کی شکل میں سینکڑوں پلاٹ فروخت کر دیئے ہیں، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ملیر ندی بند سے متصل بچوں کے کھیلنے کا گراﺅنڈ تھا جس کو لینڈ مافیانے قبضے کرنے کے بعد پلاٹنگ کرکے فروخت کر چکے ہیں، ذرائع کاکہنا تھا کہ ملیر ندی اور متصل سرکاری زمینوں پر قبضے میں ملوث لینڈ مافیا کے کارندوں میں راناذوالفقار، اسماعیل بلوچ، ایوب، شمس، عاصم خان، علی حسن بنگالی، حاجی وارث اور سابق ایس ایچ او شاہ لطیف امان اللہ مروت کا بھائی احسان اللہ مروت بھی شامل ہیں ، احسان اللہ مروت راﺅ انوار اور لینڈ گریبروں کے درمیان معاملات طے کروانے کا کام بھی کیا کرتا تھا، گزشتہ 10 سالوں کی دوران ملیر ندی کی زمین پر ڈپٹی کمشنر ملیر آفس کے کرپٹ مختیار کاروں، محکمہ ریونیو سندھ، انٹی انکروچمنٹ سیل / فورس سندھ اور ملیر پولیس کی سرپرستی میں ہزاروں کی تعداد میں 80اور 120 گز کے پلاٹ کاٹ کر لاکھوں روپے میں فروخت کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات صوبائی حکومت کو جاری کئے ہیںکہ کراچی میں تجاوزات اور سرکاری اراضی پر چائناکٹنگ کے ذریعے قبضے کو مسمار کیا جائے اور قبضہ مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ تاہم ابھی تک متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں