صوبہ سندھ کو سوتیلی ماں سے بھی زیادہ سوتیلا کردیا گیا ہے، سعید غنی

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبہ سندھ کو شاید اس ملک کا صوبہ ہی تسلیم نہیں کررہی ہے اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب اس صوبے کو سوتیلی ماں سے بھی زیادہ سوتیلا کردیا گیا ہے۔ شہناز انصاری نے اپنی شہادت سے چند روز قبل آئی جی سندھ کو خط لکھا تھا اور گذشتہ روز ان کے شوہر نے ہمیں بتایا کہ آئی جی کو خط بھیجا گیا تھا لیکن کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ کیماڑی سانحہ کے حوالے سے محکمہ ماحولیات اور صوبائی ڈیزاسٹر کام کررہے ہیں جبکہ ساتھ ہی پاکستان نیوی، آرمی اور اسپارکو کی ٹیمیں بھی کام کررہی ہیں اور امید ہے کہ آج اس حوالے سے کسی مثبت بات کا پتہ چل جائے گا۔ شہید صحافی عزیز میمن کے اہلخانہ سے گذشتہ روز ملاقات میں انہیں سندھ حکومت کی جانب سے مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے اور وہ جس طرح چاہیں اور جس پولیس افسر سے چاہیں اس کیس کی انکوائیری ہم کروانے کو تیار ہیں اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ اس کیس کی جوڈیشنل انکوائری ہو تو ہم اس کے لئے بھی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو لکھنے کے لئے تیار ہے تاہم ابھی تک ان کے لواحقین کی جانب سے ایف آئی آر کا اندراج نہیں کرایا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کی ذوق در ذوق شامل ہورہے ہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی وفاق کی جماعت ہے اور اس سے زیادہ منظم اور مستحکم سیاسی جماعت اس ملک میں اور کوئی نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نیپیر کے روز اپنے کیمپ آفس میں تحریک انصاف کے الیکشن2018 میں پی ایس کے امیدوار اور حلقہ میں کامیاب امیدوار سے صرف 200 ووٹ کم لے کر دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے جان محمد گبول، مزار منگھوپیرکے سجادہ نشین خواجہ غلام حیدر مینگل، احمد خلجی، کپتان گبول، اسحاق رند، ریحان احمد سرہندی، محمد حسین چانڈیو، صفدر حسین شاہ، سمیت سینکڑوں کی تعداد میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی پیپلز پارٹی میں ثمولیت کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اور ڈسٹرکٹ ملیر کے صدر جان محمد بلوچ، رکن سندھ اسمبلی سلیم بلوچ، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری و سابق صوبائی وزیر جاوید ناگوری اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ اس موقع پر جان محمد گبول نے پیپلز پارٹی میں باقاعدہ ثمولت کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم پہلے بھی پیپلز پارٹی میں تھے تاہم وقت اور حالات کے پیش نظر ہم تحریک انصاف میں چلے گئے تھے لیکن اب ہمیں اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ صرف پیپلز پارٹی ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے، جو اس صوبے اور ملک میں حقیقی طور پر عوامی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے منشور اور وژن پر اب سے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں اور انشاء اللہ اس ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی اور اس ملک میں عوامی حکومت کی جدوجہد میں ہم اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلیں گے۔ اس موقع پر مختلف سوالات کے جواب میں وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ آئی جی سندھ کے معاملے پر وفاقی حکومت کی جانب سے جو رویہ رواں رکھا گیا ہے اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت شاید صوبہ سندھ کو اس ملک کا صوبہ ہی تسلیم نہیں کررہی ہے اور اس کے ساتھ سوتیلی ماں سے بھی زیادہ برا سلوک رواں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کے حوالے سے صوبہ سندھ کی جانب سے تمام آئینی اور قانونی معاملات کے باوجود آئی جی کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کا رویہ قابل افسوس ہے۔ کیماڑی میں زہریلی گیس اور ہلاکتوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ماحولیات اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے علاوہ کوئی محکمہ نہیں ہے اور ان کے پاس بھی تمام سہولیات میسر نہیں ہیں اس کے باوجود بھی یہ دونوں محکمے کام کررہے ہیں جبکہ نیوی، آرمی اور اسپارکو کی ٹیمیں بھی اب یہاں پہنچ چکی ہیں اور اہمیں امید ہے کہ آج اس حوالے سے مثبت بات معلوم ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افسوس وفاقی وزیر اور کے پی ٹی کی انتظامیہ کی جانب سے سانحہ کے فوری بعد آنے والے ردعمل پر ہوا جب انہوں نے فوری طور پر اس بات کا بیان دیا کہ ہمارے باعث ایسا نہیں ہوا ہے،۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حقائق سامنے نہ آئیں اور جلد بازی میں اس طرح کے بیانات دینا قابل افسوس ہے۔ جب تک اسباب معلوم نہ ہوں کسی قسم کا بیان دینے میں محتاط رہنا بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سانحہ میں جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کے لواحقین اپنے پیاروں کی لاشیں بغیر پوسٹ مارٹم کے لے گئے ہیں۔ اگر پوسٹ مارٹم کیا جاسکتا تو شاید کچھ عوامل سامنے آجاتے البتہ 150 کے قری متاثرہ افراد میں سے متعدد کے خون کے نمون

اپنا تبصرہ بھیجیں