گوالیارسوسائٹی اسکیم 33 میں تین پلاٹوں کو ملاکرغیرقانونی تعمیر

کراچی(بولونیوز)اسکیم 33 میں ڈپٹی ڈائریکٹروقارخاور میمن اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر دانش بھٹوکی سربراہی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بام عروج پر،ایچ آراین ڈبلیو کے گوالیارسوسائٹی میں کئے جانے والے سروے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی خلاف ورزیاں سامنے آئیں،پلاٹ نمبر CM-58,59,60 پرتین پلاٹ کو غیر قانونی طور پر ملا کر G+3 کی تعمیرات کا کام جاری ہے۔واضح رہے کہ تعمیراتی قوانین کی رو سے دو یا تین پلاٹوں کو ایک ساتھ ملاکرتعمیرات کرنے کی غرض سے باقاعدہ Amalgamation Plan منظور کرانا پڑتا ہے۔جو ایک طویل طریقہ کار ہے اس لئے شارٹ کٹ طریقہ اختیارکیاجاتا ہے کہ مبینہ طور پر دانش بھٹو کے ذریعہ وقار خاورمیمن کی جیب میں لاکھوں روپے کی پتی ڈال دی جاتی ہے۔اس کے بعد Amalgamation کیا ہر طرح کے غیر قانونی تعمیرات کی بھاشات کا پروانہ مل جاتا ہے۔مذکورہ پلاٹوں کو صرف G+2 بنانے کی اجازت تھی لیکن اس نے مذکورہ افسران کا رشوت سے منہ بند کر کے ایک اور اضافی فلور تعمیرکردیئے ہیں۔دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جب سے وقار خاور میمن نے اس علاقے کا چارج سنبھالا ہے اس وقت سے غیر قانونی تعمیرات میں مزید تیزیآئی کیونکہ دانش بھٹو جو عرصہ دراز سے اسکیم 33 میں تعینات ہے اس نے وقارخاور میمن کو ملا کر ایک چین بنا رکھی ہے،سوسائٹی کے مقامی لوگوں سمیت این جی اوز کی شکایتوں پر بھی ان کے کانوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا جبکہ صوبائی ادارے بشمول اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بھی سیاسی اثررسوخ کی بنیاد پر آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں