نندی پور ریفرنس،بابراعوان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(بولونیوز)احتساب عدالت نے نندی پورپاورپراجیکٹ ریفرنس سے بریت کے لیے بابر اعوان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے درخواست کی سماعت کی۔ بریت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے ملزم بابر اعوان نے موقف اختیار کیا کہ نندی پور پاور پراجیکٹ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا، 2 سمریاں ان کے وزیربننے سے قبل وزارت قانون کوبھیجی گئی،عہدے سے ہٹنے کے بعد بھی وزارت قانون نے سمری منظورنہیں کی۔بابر اعوان نے کہا کہ وفاقی وزیر کبھی بھی ایسی سمری کی منظوری نہیں دیتا یہ کام سیکرٹری کا ہے، چیئرمین نیب نے لکھا کہ وہ مطمین ہیں کہ ملزمان کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز میں ملوث ہیں مگر دائر کئے گئے ریفرنس میں میرا نام کہیں بھی نہیں ہے، سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو حکم دیا تھا کہ کسی کی تضحیک نہ کریں اور آگ لگا کر منصوبے میں تاخیر کرنے والوں کیخلاف ریفرنس دائرکریں مگرنیب نے ان لوگوں کوچھوڑکرہمارے خلاف جلدی سے ریفرنس بنا دیا۔نیب کے پراسیکیوٹرذیشان مسعود نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب نے بابراعوان اوردیگرچھ ملزمان کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کی ہدیات کی تھی، ریفرنس دائر کرنے سے پہلے وزارت قانون سے رائے لی گئی۔ وزارت قانون کے جواب میں درج ذمہ داران کے ناموں میں بابراعوان کا تیسرانمبر ہے۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ بابر اعوان کے وزیر بننے سے پہلے وزارت قانون نے یہ سمری منظور کی اور ساتھ ہی لکھا کہ فوری کام شروع کیا جائے، اٹارنی جنرل نے بھی وہی سمری منظور کی، سمری کی منظوری کے بعد وزارت قانون اور وزارت خزانہ نے حکومتی گارنٹی فارم پر دستخط کرنے تھے، وزارت خزانہ نے تو گارنٹی فارم پر دستخط کر دیئے مگر وزارت قانون نے نہیں کئے اور بابر اعوان کی وزارت کے دوران فارم پر دستخط کرنے میں ایک سال لگا دیا گیا۔ ٹرائل شروع ہونے پر عدالت کو ملزمان کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات کا بھی بتائیں گے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ بابر اعوان کے دور میں 4 بار سمری وزارت قانون کو بھیجی گئی، وزیراعظم آفس نے وزارت قانون کو میمورنڈم بھی جاری کیا اور وزارت قانون نے جواب دیا کہ اس وقت جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ بابر اعوان کے جانے کے بعد وزارت قانون نے تعاون بھی شروع کر دیا۔ اس لیے عدالت ملزم بابر اعوان کی بریت کی درخواست مسترد کرے۔ دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو کہ 20 فروری کو سنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں