بحریہ ٹاﺅن کراچی کے غیرقانونی پروجیکٹس کے خلاف متاثرہ الاٹی ایڈووکیٹ کا کمپنی کو قانونی نوٹس

کراچی(بولونیوز)سپریم کورٹ کی جانب سے بحریہ ٹاﺅن کراچی کے معاملے میں ازخود نوٹس لینے کے بعد بحریہ ٹاﺅن کراچی کی طرف سے جو شدید بے ضابطگیاں ،زمینوں کے حصول میں سندھ حکومت کے اشتراک سے بے قاعدگیوں اور بحریہ ٹاﺅن میں تعمیر ہونے والی مختلف کمرشل عمارات سمیت ،ولاز،پلاٹوں،بحریہ اسپورٹس سٹی اور بحریہ پیراڈائز سمیت دیگر پروجیکٹس کی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے اجازت نہ لینے کی سنگین تعمیراتی خلاف ورزی بے نقاب ہونے پر نہ صرف بحریہ ٹاﺅن کے ہزاروں الاٹیزکے کھربوں روپے داﺅپرلگ گئے بلکہ بحریہ ٹاﺅن میں پراپرٹی کی قیمتیں زمین پر آگئیں۔سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں الاٹیز کو یہ حکم نامہ بھی جاری کیا تھا کہ وہ اپنی اقساط سپریم کورٹ میں جمع کرائیں اس کے باوجود بحریہ ٹاﺅن کی انتظامیہ نے اس ہدایت کی بھی خلاف ورزی کی اور الاٹیز کو اقساط کی ادائیگی بحریہ ٹاﺅن کے بینک اکاﺅنٹس میں جمع کرانے کے خطوط ارسال کئے جارہے ہیں جو خود توہین عدالت کے زمرہ میں آتے ہیں۔بحریہ ٹاﺅن کی طرف سے سندھ حکومت کی ملی بھگت سے غیر قانونی پروجیکٹس کے اعلان کی حقیقت سامنے آتے ہی بحریہ ٹاﺅن کے الاٹیز نے ان کو اقساط کی ادائیگی روک دی ہے۔جس پر بحریہ ٹاﺅن کی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر ان کے خلاف جرمانہ عائدکررہی ہے جوتعمیراتی قوانین یعنی سندھ بلڈنگ اینڈ ٹاﺅن پلاننگ ریگولےشنز کی شق نمبر 5-1.11.4 کی رو سے بالکل غیرقانونی ہے۔ اس سلسلے میں بحریہ اسپورٹس سٹی کے ایک متاثرہ الاٹی اور ہائی کورٹ کے ایک وکیل ندیم احمدنے ٹھوس کیبنیاد پر بحریہ ٹاﺅن کراچی کو ایک لیگل نوٹس جاری کیا ہے جس میں انہوں نے بحریہ ٹاﺅن کی تعمیراتی خلاف ورزی اور دیگر بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بحریہ ٹاﺅن کو اپنے بک شدہ پلاٹ کی پوری رقم کی واپسی اور متعلقہ اداروں سے این او سی لئے بغیر اور قیمتیں بھی متعلقہ اتھارٹی سے منظور کرائے بغیر عوام الناس میں تشہیرکرکے گمراہ کن غیر قانونی بکنگ کرنے پر ہرجانہ کی مدایک کروڑدس لاکھ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ایڈووکیٹ ندیم احمد نے اس ضمن میں بحریہ ٹاﺅن کو 15 دن کا نوٹس دیا ہے جس کی معیادگزرجانے کے بعد متعلقہ عدالت می سوٹ دائرکردیا جائے گا۔ اس سلسلے مےںبحریہ ٹاﺅن کے دیگر متاثرین بھی آفس پر B-6 علی سینٹر نزداشفاق میموریل ہسپتال بلاک 13-C گلشن اقبال فون نمبر0300-8200997 پروکیل صاحب سے رابطہ کرسکتے ہیں،تاکہ بحریہ ٹاﺅن سے انکی ڈوبی ہوئی رقم بمع ہرجانہ واپس دلائی جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں