اسٹیٹ بینک سوسائٹی اسکیم 33 میں 3 پلاٹوں پر G+4 غیرقانونی تعمیرات

کراچی(بولونیوز) اسٹیٹ بینک کوآپریٹوسیکٹر17 اسکیم 33 میں 3 پلاٹوں کو ملا کر ایک کمرشل پروجیکٹ کی غیرقانونی تعمیر،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی گلشن ٹاﺅن زونII کے ڈپٹی ڈائریکٹر وقارخاورمیمن اور آفس شیٹنگ اسسٹنٹ ڈائریکٹر دانش بھٹو نے مبینہ طور پر بھارتی نذرانہ کے عوض آنکھیں بند کررکھی ہیں۔تفصیلات کے مطابق پلاٹ نمبر 1/2/3 پر ایس بی سی اے سے انضمام اور بعد ازاں نقشہ پاس کرائے بغیربلڈر جس کا نام معیز معلوم ہوا ہے نے غیر قانونی طور پر G+4 عمارت تعمیر کردی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اسٹیٹ بینک سوسائٹی کے مکینوں نے بھی ایس بی سی اے کو اس غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ڈی جی ایس بی سی اے کو قانونی نوٹس بھجوائے تھے جسے ڈی جی افتخار قائم خانی نے ضروری کارروائی کی ہدایت کا لکھ کر مذکورہ بالا افسران کو فارورڈ کردیا تھا لیکن وقار خاور میمن اور دانش بھٹو کی ملی بھگت نے اس غیرقانونی عمارت کو تحفظ دے رکھا ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ایک طرف سپریم کورٹ کے آرڈر کو آڑ بنا کر شہرمیں قانونی تعمیرات کے خلاف توانارکی بھیلا رہی ہے۔لیکن مسلسل نشاندہی کے باوجود اس طرح کی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نہ کرنا ایس بی سی اے اور غیر قانونی بلڈرزاتحاد کی غمازی کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں