قصورمیں 272 بچوں سے زیادتی کے کیسز،تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد(بولونیوز)وفاقی محتسب نے رپورٹ میں تہلکہ خیزانکشاف کیا ہے کہ صرف قصورمیں دس برس میں دوسو باہترکیسز ہوئے، لیکن چند ملزمان کو سزا ہوئی، زیادتی کرنے والوں میں بااثر سیاستدان،دولت مند اورپڑھے لکھے افراد شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق قصوراسکینڈل معاشرے کاالمیہ نکلا، وفاقی محتسب کی سرچ رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا کہ پنجاب میں زیادتی کے واقعات بڑھ گئے، صرف قصور میں دس برس میں دو سو باہتر کیسز ہوئے لیکن چند ملزمان کو سزا ہوئی، واقعات کی تحقیقات اثرو رسوخ کے استعمال اور پولیس کو پیسے دے کر دبا دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا زیادتی کا نشانہ بننے والے بیشتر بچے غریب، ان پڑھ اور پسماندہ خاندانوں کے ہیں، جو پیسے اور دھونس دھمکی پر دباؤ میں آگئے جبکہ بچوں سے زیادتی کے شرمناک واقعات میں زیادہ تر بااثر سیاستدان، دولت مند اور پڑھے لکھے افراد ملوث نکلے۔یاد رہے کہ رپورٹ میں زیادتی کے واقعات کی بڑی وجہ منشیات کا استعمال، جسم فروشی، فحش فلموں کی دستیابی قرار دیا اور کہا گیا قصور میں بڑھتے واقعات کا جائزہ لینے کے لیے سینٹر قائم کیا گیا ، قصور واقعے پر ریسرچ رپورٹ صدر پاکستان کو بھجوا دی ہے۔وفاقی محتسب کا کہنا ہے کہ عام طور پر بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے، 2018 میں بچوں سے زیادتی کے 250 سے زائدکیس درج ہوئے جبکہ 2017 میں زیادتی کے 4 ہزار 139 واقعات رپورٹ ہوئے، سب سے زیادہ پنجاب میں 1 ہزار 89کیس رپورٹ ہوئے۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2018 میںقصور کی ننھی زینب کے بہیمانہ قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، ننھی زینب کو ٹیوشن پڑھنے کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اغوا کیا گیا تھا جس کے دو روز بعد اس کی لاش ایک کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی تھی۔بعد ازاں اکتوبر 2018 میں قصور کی زینب اور دیگر معصوم بچیوں کے قاتل عمران علی کو لکھپت جیل کے پھانسی دے دی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں