انتخابات سے قبل نوکریوں کا وعدہ،پہلے ہی لوگوں کوبے روزگارکردیا،مصطفی کمال

کراچی(بولونیوز) چیئرمین پاک سر زمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ انکی پارٹی تمام ناجائز تجاوزات کے خلاف ہے اور پارٹی کے تمام کارکنان سپریم کورٹ کے ہر فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں لیکن ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے جو غلط کام کرنے پر ڈانٹتی اور مارتی ہے لیکن گھر سے نکال کر بھوکا نہیں مارتی۔ عوام سے انتخابات سے قبل ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس کے برعکس حکومت نے اپنے شروعاتی دنوں میں ہی ہزاروں کاروبار ختم کر کے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کر دیا اور لاکھوں گھروں کے چولھے ٹھنڈے کردیئے ہیں۔ اپنے دور نظامت میں موجودہ آپریشن کے مقابلے زیادہ بڑے آپریشن کیئے تھے لیکن انکا شور نہیں مچا، لیاری ایکسپریس وے بنانے کیلئے 28 ہزار گھر مسمار کیئے جو ناجائز تھے لیکن اس وقت کی عدلیہ، حکومت اور اداروں نے فیصلہ کیا کہ ان لوگوں کو بے گھر نہیں کیا جائے گا جس مقصد کیلئے 3 نئی آبادیاں بنائی گئیں جہاں ان لوگوں کو آباد کرنے سے پہلے پانی، سیوریج، بجلی، گیس کی لائنیں ڈالی گئیں، اسکول، اسپتال، ڈسپنسری، سڑکیں اور مسجد کی تعمیر سمیت بنیادی ضرورتیں دستیاب کی گئیں اور پھر ان نالوں میں غیر قانونی طور پر بسنے والوں کو 80 گز کا پلاٹ اور 50 ہزار روپے نقد دے کر نئی جگہ منتقل کیا۔ پریڈی اسٹریٹ بنانے کیلئے 1285 مکانات توڑ کر بلدیہ کی کاؤنسل کی منظوری کے بعد متاثرین کو ٹی پی 2 کی زائد زمین پر عارضی طور پر منتقل کیا۔ اسی طرح کٹی پہاڑی پر غیر قانونی طور پر آباد 150 خاندانوں کو دوسری جگہ منتقل کیا کیونکہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔حکومتیں ناجائز تجاوزات ختم کرنے سے پہلے متاثرین کے لئے متبادل انتظامات کرتی ہیں اور پھر آپریشن کرتی ہیں کیونکہ متاثرین ہوا میں تحلیل نہیں ہوجاتے بلکہ انکے ساتھ انکے اہل خانہ کے پیٹ بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم کا آپریشن پر احتجاج سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ انکا میئر ہی ہر جگہ جا کر دکانیں اور گھر مسمار کر رہا ہے اور وہ خود حکومت کا حصہ ہیں۔ سید مصطفیٰ کمال نے سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حکم پر ہونے والے آپریشن پر نظر رکھیں کیونکہ خدشہ ہے کہ جو لوگ یہ دکانیں تڑوا رہے ہیں وہی بعد میں پھر ان لوگوں کو وہاں آباد کرنے کیلئے بھاری رشوت طلب کریں گے۔ پاکستان کوارٹر اور مارٹن کوارٹر میں لوگ 60 سالوں سے اپنے گھروں میں رہ رہے ہیں جنکو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے مودبانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میئر کراچی کو بلا کر عوام کے وسیع تر مفاد میں لوگوں کو پانی پلانے، کچرا اٹھانے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کے اختیارات بھی دے دیں۔ ان خیالات کا اظہار سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان ہاؤس میں پارٹی صدر انیس قائم خانی سمیت سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور نیشنل کونسل کے اراکین کے اجلاس میں پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے خود ہی وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کا غیر ذمہدارانہ بیان دیا ہے جس کے بعد سے عوام میں حکومتی کارکردگی کی وجہ سے پائی جانے والی بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار تو درکنار ملک کا کاروباری طبقہ بھی تذبذب کا شکار ہے کیونکہ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے ماحول کسی صورت سازگار نہیں ہے، امن و امان کی صورتحال کے علاوہ حکومت کی پہلے سے کوئی تیاری نہیں ہے، روز نئے تجربات کیئے جا رہے ہیں جن کی موجودہ معاشی حالات میں قومی معیشت میں سکت نہیں ہے اور معاشی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کاؤنسل میں کراچی کی مشکوک مردم شماری کو حتمی قرار دینے کی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مردم شماری کے بعد نتائج کا آڈٹ کیا جاتا ہے جس میں غلطیوں کو درست کر کے حتمی نتائج جاری کئے جاتے ہیں لیکن دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بغیر تصدیق کے مشکوک نتائج کو حتمی طور پر تسلیم کرنے کیلئے اسٹیٹسٹکس بیورو کی جانب سے وزیر اعظم کو سمری ارسال کر دی گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کچھ دن قبل اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ کراچی کی آبادی جسے 1 کروڑ 60 لاکھ دکھایا گیا ہے وہ کسی صورت 3 کروڑ سے کم نہیں ہے، اگر انہی نتائج کو حتمی تسلیم کر لیا گیا تو یہ سندھ کی عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم اور کراچی کی نسل کشی کے مترادف ہوگا کیونکہ اسی حساب سے سندھ بھر کی عوام کو وفاق سے تمام تر ضروری فنڈز اور وسائل کم ملیں گے جس کا خمیازہ سندھ کی عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کراچی کے لوگوں کی نسل کشی کا نوٹس لیں۔ ان کے پاس کراچی کا مینڈیٹ ہے، کراچی سے وہ خود منتخب ہوئے، انکا صدر، گورنر، 14 قومی اسمبلی اور 29 صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہیں اس لیئے کراچی کی عوام انکا موقف جاننا چاہتی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور معروف قانون دان اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ فروغ نسیم اتنے باصلاحیت پیشہ ور وکیل ہیں کہ انہوں نے الطاف حسین اور جنرل مشرف کو ایک دن کی جیل نہیں ہونے دی تو ان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ کراچی کے لوگوں کا بھی مقدمہ لڑلیں جبکہ خالد مقبول صدیقی اور انکی پارٹی بھی عوام میں انتخابات سے پہلے تک مردم شماری پر گھن گرج کرتے تھے لیکن انتخابات کے بعد سے اس اہم ترین مسئلے پر بالکل خاموش ہیں جیسے کہ 70 لاکھ لاپتہ افراد مل چکے ہوں۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم والوں نے مہاجر کے نام پر اور تحریک انصاف نے تبدیلی کے نام پرکراچی والوں سے ووٹ لیا اور حکومت بنائی اس لئے دونوں کو انتخابات کے بعد مردم شماری پر کراچی والوں کو اپنے موقف سے آگاہ کرنا چاہیے۔ مہنگائی کا طوفان برپا ہو گیا ہے غریب آدمی کے گھر کے اخراجات کیلئے جو پیسے 20 دن چلتے تھے وہ اب بمشکل 10 دن چلتے ہیں۔ سید مصطفیٰ کمال نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر عائد پابندی کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا جو ماسٹر پلان ہم نے بنایا تھا اس میں کثیر المنزلہ عمارتوں کے لئے علیحدہ زون مختص کئے تھے جبکہ اونچی عمارتوں کی تعمیر پر پابندی کی وجہ سے تعمیراتی صنعت سے وابستہ پاکستان اور کراچی کی اسٹیل ملز سمیت 35 سے 40 صنعتیں بند ہو گئی ہیں اور لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ واٹر بورڈ کا موقف ہے کہ انکے پاس پانی دستیاب نہیں ہے لیکن عمارتیں پانی نہیں پیتیں انسان پیتے ہیں۔ کثیر المنزلہ عمارتیں کراچی کی بڑھتی آبادی کے مسائل قابو کرنے کیلئے ناگزیر ہیں۔ عوام میں ہمارے بارے میں یہ تاثر دیا گیا کہ پی ایس پی ایم کیو ایم کا ایک دھڑا ہے جبکہ اس کے برعکس ہمارے درمیان کوئی مماثلت نہیں، ہمارا اپنا منشور، سوچ اور نظریہ ہے، ہم عوام کیلئے عزت، انصاف اور اختیار کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں