کئی ماہ گزرنے کے باوجود ملازمین کو معطلی کا سامنا

کراچی(بولونیوز)بلدیہ عظمی کراچی میں معززعدالتوں کے احکامات کوہوا میں اڑانا معمول کا حصہ بن گیا،26نومبرکوکئی اخبارا ت میں خبرکی اشاعت اورسپریم کورٹ کے احکامات کے حوالے کے باوجود میئرکراچی ”وسیم اختر “ اور میونسپل کمشنرسیف الرحمن نے تاحال معططل ملازمین کی بحالی و انکوائری کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے۔تفصیلات کے مطابق کے ایم سی میں میئر کراچی کے منظور نظر افسران کی جانب سے ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک جاری ہے اور ملازمین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،ایک سال قبل کے ایم سی کے محکمہ اسٹیٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر عثمان واسع کو الزامات کے بعد معطل کردیا گیا تھا جس کی وجہ ایکز سینئر ڈائریکٹر اسٹیٹ قیوم خان کو بچانے کے لئے جلد بازی میں محمّد عثمان واسع کو معطل کردیا گیا جنہیں تاحال دوبارہ بحال نہیں کیا گیا جس سے متاثرہ ملازمین میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے۔عثمان واسع کے علاوہ بھی درجنوں ملازمین ایسے ہیں جنہیں محض الزامات کی بھینٹ چڑھا کر انتقامی کارووائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس سے نہ صرف متاثرہ ملازمین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے وہیں ساتھ ہی ان کے اہل خانہ بھی شدید ذہینی اذیت سے دوچار ہیں کیونکہ سالوں اور مہینوں سے معططل ملازمین اور ان کے بچوں کا مستقبل داوءپر لگ چکا ہے، مالی حالات مخدوش ہوچکے ہیں اور وہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دئے گئے ہیں ۔متاثڑہ ملازمین نے اعلی عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے جائز حق دلوانے اور ان کے معصوم بچوں کے مستقبل کو داوءپر لگنے سے بچاتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں ، کئی کئی ماہ سے معطل ملازمین کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارووائی کی جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں