پی سی ایس آئی آر سوسائٹی اسکیم 33، بغیر نقشہ کروڑوں کی مالیت کی تعمیرات کا ماسٹر مائنڈ دانش بھٹو بے نقاب

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)اسکیم 33 میں واقع پی سی ایس آئی آر سوسائٹی میں پلاٹ نمبر B-138 پر برطرف ایڈمنسٹریٹر اعجاز حسین شاہ کی طرف سے بنائی گئی جعلی فائل پر لینڈمافیا نے تعمیرات شروع کردی اور پلاٹ کا اصل مالک سید سرورعلی شاہ دھکے کھاتا پھررہا ہے-سرورعلی شاہ نے اس سلسلے میں برطرف ایڈمنسٹریٹر اعجاز حسین شاہ کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی تھانہ سچل میں درج کرائی کہ اس کی بہن کے نام لیز پلاٹ جس کا وہ اب پاورآف اٹارنی ہے اور اس کے پلاٹ کی جعلی فائل اعجاز حسین شاہ نے کسی کے نام الاٹ کردی اور وہاں اب عمران نامی ٹھیکیدار غیرقانونی تعمیرات کررہا ہے- پولیس نے مبینہ طور پرسابق ایڈمنسٹریٹر سے بھاری رشوت لے کر یہ ایف آئی آر سی کلاس کردی ہے، جبکہ درخواست گزار سرور علی شاہ اس سی کلاس رپورٹ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے جارہے ہیں اور اس ضمن میں کرمنل سائیڈ کے معروف ایڈووکیٹ حجت الرحمن جلد آئینی درخواست دائرکرنے والے ہیں- دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سوسائٹی کا بورڈ آف ریونیو سے لے آؤٹ پلان منسوخ ہونے اور 7ایکڑسرکاری زمین پر غیرقانونی پلاٹنگ پر ایک انکوائری اینٹی کرپشن اور ڈپٹی کمشنرایسٹ میں چل رہی ہے- اس کے باوجود یہاں بغیر نقشہ منظوری کے غیرقانونی تعمیرات درجنوں پلاٹوں پر دھڑلے سے جاری ہے اور ان غیرقانونی تعمیرات کی سرپرستی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا آفس شیٹنگ اسسٹنٹ ڈائریکٹر دانش بھٹواور ڈپٹی نیاز حسین لغاری براہ راست کررہے ہیں- مذکورہ پلاٹ نمبر B-138 پی سی ایس آئی آر سوسائٹی پر بھی پلاٹ کے مالک سیدسرورعلی شاہ نے براہ راست سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ہیڈ آفس جاکر اپنی شکایت جمع کرائی اور چند روزکے لئے کام رک گیا لیکن دانش بھٹو نے مبینہ طور پر مزید ایک ملین لے کر کام دوبارہ شروع کرادیا ہے-واضح رہے کہ دانش بھٹو اور اس سوسائٹی میں لینڈ مافیا کا سرغنہ اعجاز حسین شاہ دونوں خود کو بی بی فریال کے خاص آدمی کہتے ہیں، جس کی بناء پر شریف لوگوں کو انہوں نے دبایا ہوا ہے- پلاٹ نمبر B-138کے مالک سید سرور علی شاہ نے سندھ حکومت کی طرف سے اداروں میں کھلی کرپشن کی سرپرستی کے خلاف اس معاملے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب ثاقب نثار سے از خود نوٹس لینے اور یہاں 70 سے زائد متاثرین کو ان کا حق دلوانے کا مطالبہ کیا ہے- انہوں نے بتایا کہ آئندہ جب چیف جسٹس کراچی رجسٹری آئیں گے تو اعجاز شاہ کے ڈسے ہوئے متاثرین سپریم کورٹ کے باہر بینرز لے کر احتجاجی مظاہرہ بھی کریں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں