اسکیم 33 میں غیرقانونی تعمیرات،دانش بھٹوحرام آمدنی کی مشین بن گیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)اسکیم 33 میں پی سی ایس آرسوسائٹی میں ہونے والی بغیرنقشہ کی درجنوں تعمیرات سندھ بلڈنگ کرپشن اتھارٹی کی کروڑوں روپے کی حرام آمدنی کی مشین بن گئی اور اس مشین کے آپریٹر کا نام اسسٹنٹ ڈائریکٹر دانش بھٹو معلوم ہوا ہے-واضح رہے کہ ایس بی سی اے نے پی سی ایس آئی آر کا لے آؤٹ پلان کینسل ہونے کی وجہ سے سوسائٹی کے نقشہ کی منظوری پرپابندی عائد کی ہوئی ہے اس سلسلے میں پلاٹ نمبر A-80، G+2،پلاٹ نمبر A-87 G+2،پلاٹ نمبر A-89 G+2، پلاٹ نمبرC-1رقبہ 600گزپرG+3واضح رہے کہ 600 گز کے پلاٹ نمبر سرکاری طورپربھی صرف G+1تعمیر کی اجازت ہے-پلاٹ نمبر C-2پر بھی G+3،پلاٹ نمبر R-39 G+2، پلاٹ نمبر R-40 G+2، پلاٹ نمبر R-28پرG+2،پلاٹ نمبرR-27پربھی G+2کی تعمیرات مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی رشوت لے کر غیرقانونی تعمیرات یعنی پورشن اور یونٹس بنائے جارہے ہیں اور کرپشن کے معاملات براہ راست اسسٹنٹ ڈائریکٹر آفس شپنگ دانش بھٹو ڈیل کررہا ہے-پی سی ایس آئی آر سوسائٹی کی ایک اور بڑاسیٹ بیک یہ ہے کہ یہاں پراعجاز شاہ نامی شخص نے 19 اپریل 2017 میں کوآپریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے برطرف ہونے کے باوجود اس سوسائٹی پر قبضہ کیا ہوا ہے اورسوسائٹی کے اندراس نے غیرقانونی بلڈرز پر مشتمل ایک ٹولہ بنا رکھا ہے جنھیں یہ 1990 سے الاٹ شدہ پلاٹ کی جعلی فائلیں بمعہ قبضہ جماکردیتا ہے اور وہ لوگ دانش بھٹوکی مدد سے غیرقانونی پورشن بنا کر فر و خت کردیئے ہیں-ان غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کسی بھی شکایت کو دانش بھٹو ڈیپارٹمنٹ میں دبالیتا ہے اور اس کے نام سے ان غیرقانونی بلڈرز سے مزید مال بٹورتا ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں