بلدیات سے متعلقہ تمام محکمہ جات اپنا قبلہ درست کرلیں، سعید غنی کا “آباد” میں خطاب

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ بلدیات سے متعلقہ تمام محکمہ جات اپنا قبلہ درست کرلیں، سابقہ اور موجودہ تمام معاہدوں اور ترامیم پر مکمل عمل درآمد کیا جائے، تعمیراتی شعبہ معاشی ترقی کا ضامن ہے،آباد کے تمام مسائل حل کیے جائیں گے، آباد کی مشاورت سے ون ونڈو آپریشن کا نظام نافذ کریں گے،سمندری پانی کوقابل استعمال بنانے کے لیے ڈی سیلی نیشن پلانٹ لگا کر سندھ میں پانی کا بحران حل کیا جائے گا،حکومتی رہائشی اسکیموں کا مکمل نہ ہونا حکومتی کارکردگی پر دھبہ ہے۔ یہ بات انھوں نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے مرکزی دفتر آباد ہاؤس کے دورے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر آباد کے چیئرمین محمد عارف یوسف جیوا،سینئر وائس چیئرمین فیاض الیاس،وائس چیئرمین سہیل ورند،آباد کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی،سابق سینئر وائس چیئرمین حسن بخشی، حنیف گوہر،بلدیاتی افسران اور آباد ممبران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کے متحرک ہونے سے دیگر صنعتیں بھی ترقی کرتی ہیں،آباد کے مسائل حل کرنا اولین ترجیح ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بلدیات کے محکموں کو درست کرنے کے لیے وزارت دی، تمام افسران کو متنبہ کرتا ہوں کے وہ اپنا قبلہ درست کرلیں۔بلدیاتی ادارے عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں،کام نہ کرنے والے افسران کو فارغ کردیں گے۔انھوں نے کہا کہ ہر محکمے میں ون ونڈو آپریشن کے ساتھ ایک مرکزی ون ونڈو قائم کرنا چاہتے ہیں۔آباد تمام محکموں کے سربراہان سے میٹنگز کرکے متفقہ فیصلہ کریں جس پر عمل درآمد کراؤں گا۔ انھوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کو سستے گھروں کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہے،آباد کے ساتھ مل کر کم لاگت گھر بنائیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ میرے کام کی رفتار تیز ہے،افسران کو دفتری اوقات میں کام کرنا ہوگا،غفلت کے مرتکب افسران کو محکموں میں رہنے نہیں دوں گا۔ اس موقع پر آباد کے چیئرمین عارف یوسف جیوا نے کہا کہ کراچی میں 84 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان علاقوں میں انفرا اسٹرکچر اور یوٹیلٹی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعثت الاٹیز کو قبضے نہیں دیے جاسکے۔عارف جیوا نے کہا کہ پانی کی کمی پورے پاکستان میں ہے لیکن افسوس کے صرف کراچی میں ہی پانی کی کمی کو جواز بنا کر بلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی لگادی گئی ہے جس سے کراچی کے شہریوں کو نقصان ہورہا ہے، پاکستان میں پہلے ہی ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ہے۔ پانی بحران کے حوالے سے سپریم کورٹ نے حکومت سندھ سے نومبر میں رپورٹ طلب کی ہے۔انھوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ آباد کی تجاویز پر رپورٹ تیار کرکے سپریم کورٹ میں پیش کی جائے۔چیئرمیں آباد نے وزیر بلدیات سے کمپوزیشن اور نان یوٹیلائزین فیس کے معاملات فوری حل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ نان یوٹیلائزیشن فیس ہر علاقے کی مناسبت سے لی جائے۔سرجانی ٹاؤن اور کلفٹن ٹاؤن میں ایک جیسی فیس غریب الاٹیز پر ظلم ہے،آباد کے چیئرمین نے صوبائی وزیر کی اپنی پوری ٹیم کے ساتھ آباد ہاؤس آمد کو سراہا۔ آباد کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 25 برسوں میں سندھ حکومت صرف 3 اسکیمیں ہی بناسکی ہے لیکن افسوس کے تینوں اسکیموں کے الاٹیز کو تاحال قبضے نہیں دیے جاسکے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں گھروں کی کمی کے پیش نظر آباد نے ایفورڈ ایبل ہاؤسنگ اسکیموں کا اعلان کیا ہے۔ آباد نے حکومت کو بھی ایفورڈایبل گھروں کی تعمیر کے لیے تجاویز دیں۔آباد نے اس ضمن میں حکومت کا اپنی خدمات بھی پیش کیں لیکن افسوس حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کے باعث پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے تحت کم لاگت گھروں کی اسکیم تاحال شروع نہ ہوسکی۔انھوں نے کہا کہ کراچی میں تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل میں متعلقہ ادارے رکاؤٹیں پیدا کرتے ہیں۔انھوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا کہ واٹر بورڈ،ایس بی سی اے اور دیگر محکموں میں اصلاحات لائی جائیں۔کراچی میں یوٹیلیٹی کی فراہمی اور انفرا اسٹرکچر کا مسئلہ حل کیا جائے۔اس موقع پر آباد کے سینئر وائس چیئرمین فیاض الیاس نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ زراعت کے بعد سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے، اس شعبے کی ترقی سے دیگر سو صنعتوں کا پہیہ بھی چلتا ہے لیکن افسوس کہ تعمیراتی شعبے کو مراعات دینے کے بجائے اس کی راہ میں رکاؤٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ کراچی کے لیے ماسٹر پلان بنا دیا گیا ہے۔ لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ ماسٹر پلان 2020 پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں