گٹکے پر پابندی کا عدالتی فیصلہ،پان کی دکان پر رش بڑھ گیا

کراچی(بولونیوز)سندھ میں گٹکے پر پابندی کے عدالتی فیصلے کے بعد جہاں ایک طرف پان کی دکانوں پر ر ش بڑھ گیا ہے وہیں بعض گٹکا فروشوں نے پولیس کو چکما دینے کے لئے گٹکا فروخت کرنے کیلئے مختلف نئے طریقے ”ایجاد کرلئے ہیں ذرائع کے مطابق شیرشاہ میں المدثر بریانی اینڈ پکوان سینٹر میں حیرت انگیز طور پر گٹکے کی فروخت جاری ہے اور گٹکے کو ”کوڈ ورڈ“سےفروخت کیا جارہا ہے چکن بریانی کامطلب 200روپے والا گٹکا ،آلو بریانی کا مطلب 150والا گٹکا اور سادہ بریانی کےنام پر100روپے والا گٹکا فروخت کیا جارہا ہے بریانی سینٹر کے مالک سخاوت خان نے انتہائی چالاکی سے پولیس کو ”ماموں “بنانے کا کام جاری رکھا ہوا ہے گٹکے کا اسٹاک نامعلوم مقام پر رکھا جاتا ہے جس سے پکڑے جانے کا امکان نہیں رہتا ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ گٹکے کو بریانی کی دیگوں میں لایا جاتا ہے جس کی تلاشی لینا ممکن نہیں رہتا بریانی کی آڑ میں گٹکے کے کاروبار سے لاکھوں روپے کمائے جارہے ہیں جہاں ایک دیگ بریانی سے اگر دوہزارروپے کا منافع کمایا جاتا ہے تو وہیں گٹکے کی ایک دیگ سے دس ہزار تا پندرہ ہزار روپے کمانا معمولی بات ہے سندھ ہائیکورٹ کے حالیہ اقدامات اور سندھ اسمبلی سے نئے قانون سازی کے بعد المدثر بریانی سینٹر کا ”اصل کاروبار “مزید بڑھ گیا ہے جبکہ علاقہ پولیس اس سے مکمل طور پر لاعلم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں